یہ محض نظریات کا فرق نہیں بلکہ ایک کائنات کا فرق ہے ایک جانب اسلام پسند ہیں جن کے پاس صرف الله کی مدد اور اپنی نیک نیتی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، اور وہ اسی نیک نیتی کی بدولت جس جس محاذ پر لڑ سکتے ہیں لڑرہے ہیں، قلم سے لے کر حرب تک کوئی ایسا میدان نہیں اور کوئی ایسا رنگ ڈھنگ نہیں ہے جس میں یہ برسر پیکار نہ ہوں، ان کی بد قسمتی یہ ہے کہ ان کے اپنے مسلمان بھائی اور بالخصوص مذہبی سیکولر طبقہ جو فرد کی اصلاح کا بیڑا اٹھا کر امت اور امامت کے تمام فرائض سے پہلو بچا کر اپنی مساجد اور عبارت گاہوں میں مقید ہے، ایک مسلسل زہنی تربیت نے حالت یہ کر دی ہے کہ بجائے وہ دین کے کاموں میں دوسروں کے مددگار بنیں الٹا وہ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں کیونکہ انکی سوچ انکی بنیاد رکھتے ہوئے ایک خاص مسلک اور مدارس کے گرد رکھی گئی تھی اس لیے افراد کی تعداد میں اضافے کے باوجود ان کی سوچ اور وژن میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی نہیں آ سکی ہے جو ایک ایسی قوم کی تشکیل کی جانب ایک جامع قدم ہے جس سے نہ تو فرعون کو اختلاف ہو سکتا ہے اور نہ ہی حسینہ واجد جیسی حکومتوں کو اس سے کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ زمام کار میں مداخلت نہ کرنے والے افراد ہر دربار کی زینت اور ہر دور کے مطابق خود کو ڈھال لینے اور شاہوں کے بہترین مصاحب بنے رہنے کی اہلیت رکھتے ہیں. ایسے مزہبی سیکولر افراد کی موجودگی پھر بھی بالکل سیکیولر افراد کی موجودگی سے سو گنا بہتر ہے، مگر ساتھ ساتھ سقوط بغداد کی مثال بھی پوری امت کے لیے کافی ہے. کیونکہ جب اسلام پسند اپنے صحیح عمل پر انسے تائید طلب کرتے ہیں تو وہ انکے غلط پہ اعتراض کرتے ہیں، اور محض اختلاف کرتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں کرتے.
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔