سارے خطوط پر
مضمون لکھ لکھ کر دھرے ہیں
کوئی پتہ وصول کنندہ کا نہیں لکھا
بھلا کس طرح لکھتا
سبھی خطوط تو خود کو لکھے تھے
ساری باتیں تو خود سے کہی تھیں
لکھا تھا کہ کچھ حال نہیں
کمال ہے کہ کوئی کمال نہیں
سارے سوال تھے اور بس
خوشبو قید سی کی تھی فضا کی
دھویں تحریر تھے آتش کدوں کے
سکوں بھی قید تھے چند مرحلوں کے
اونچائی تحریر تھی راستوں کی
وہ جن کی اوٹ میں آزاد پنچھی
کسی سے کچھ نہ کہہ رہے تھے
سحر کے وقت میں بھی سو رہے تھے
شہر کے کوچہ و بازار میں بھی
چہل قدمی نہیں تھی
سنا ہے قتل تھا سب خواہشوں کا
مگر اس مخصوص گھرماتم نہیں تھا
سکوں تھا ضبط تھا کہ کرنوں کی دھارا
امڈ کر آنکھ کی پتلی کو لپکی
شب بھر قلم اب بھی جما تھا
وہیں آخر کہیں پر
جہاں پہ یہ لکھا تھا
یہ خط کس کو لکھا تھا
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔