کیا کچھ نہیں ہے

0 comments

مدینہ یونیورسٹی کے  فاضل استاد  دیوار سے ٹیک لگا کر نماز عصر کے بعد چند نوجوانوں کی باتیں سن رہے تھے جو کافی دیر سے آپس میں فلسفہ محبت کے موضوع پہ محو گفتگو تھے ،  بات کہیں سے شروع ہو کر کہاں پہنچ چکی تھی، سمیٹنے میں نہیں آ رہی تھی اور حالت یہ تھی کہ دونوں نوجوانوں میں سے کوئی ایک بھی کسی خاص نقطے پر نہیں پہنچ سکا تھا.
استاد محترم نے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور وہ دونوں نوجوان بیک وقت خاموش ہو کر انکی جانب متوجہ ہو گئے.
انہوں نے آگے بڑھ کر ان دونوں کے ہاتھ تھام لیے اور بولے...
کیا مجازی اور حقیقی کی بحث میں الجھ رہے ہو؟
تم جوان ہو آؤ ایک کرنے کی بات کرتے ہیں...
آپکو محبت کرنی ہے؟
کسی پہ دل و جاں سے فدا ہونا ہے؟
کسی کی تلاش میں اپنے آپکو بھول جانا ہے؟
کیا آپکو بقا کی تلاش ہے؟
کیا آپ بیک وقت پہاڑ سے زیادہ سخت اور پھول سے زیادہ نرم بننا چاہتے ہیں تو دیکھ  کیا رہے ہیں؟
  اب تک "اسلام" کی محبت میں کیوں گرفتار نہیں ہوئے ہیں؟
اس میں کیا کچھ نہیں ہے، سب کچھ تو ہے فلسفہ ہے، علوم ہیں، معاشرت ہے، معیشت ہے،  تہذیب ہے،  تصوف ہے،  تمدن ہے، شریعت ہے ،  امانت ہے،  دیانت ہے،  شرافت ہے،  صداقت ہے، عدالت ہے ،  محبت ہے،  نفرت ہے،  عقیدت ہے، نصیحت ہے،  قدامت ہے، جدت ہے اور سب سے بڑھ کر امامت ہےاور تم کیا چاہتے ہو.......؟
اتنا کہہ چکنے کے بعد وہ اٹھے اور جاتے ہوئے کہنے لگے کہ
"پیارے بیٹو !  احمد جاوید صاحب فرماتے ہیں کہ سورج سے فرار کا راستہ  بھی اس کی روشنی میں ملتا ہے "
چناچہ ہدایت کی روشنی میں، جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرو اور جہاں تک جانا چاہتے ہو جاؤ.
جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ آپ سمجھ چکے ہیں...!
اتنا کہہ چکنے کے بعد وہ تو چلے گئے مگر پیچھے رہ گئی ایک گہری معنی خیز مسکراہٹ.

تحریر
محمد انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔