ہیومن ازم سے متاثرہ افراد کا مجموعی طرز عمل اس طرح سے ہے کہ اگر وہ مجبوراً مسلمان ہیں تو انہیں اس کے مذہبی طبقے سے اختلاف ، اگر مجبوراً عیسائی ہیں تو عیسائیت کے مزہبی طبقے سے اختلاف، اگر مجبوراً یہودی ہیں تو مزہبی یہودی طبقے سے اختلاف، الغرض ہر مزہب کو اپنے نفس کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث اس مزہب کے محافظین سے عداوت انکا شیوہ ہے، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تمام الہامی مذاہب میں سے عیسائیت ہی میں اتنی گنجائش ہے جہاں یہ نظریہ پھل پھول سکے اسی باعث عیسائی ممالک میں ہیومن ازم کے پیرو کار زیادہ ہیں اور مجموعی طور پر انہی عیسائیت زدہ انسانیت پرستوں کی بہتات ہے. جبکہ یہودیت اور اسلام میں اس کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے اور دین کو سمجھنے اور سمجھانے والا طبقہ زیادہ اور مؤثر ہے اسی لیے ان مذاہب کے ماننے والوں میں انسانیت نامی نظریے کے پیرو کار بہت کم ہیں.
اب آجائیے دوسری جانب کسی بھی ہیومنیسٹ
کو پکڑ کر بٹھا لیں اور اس سے پوچھ لیں کہ جناب یہ آپکے مذہب کا مصدر کیا ہے تو ان سے جواب نہ بن پڑے گا کیونکہ مزہب اتنا ہی پرانا ہے جتنی یہ دنیا،انسانیت بذات خود مذہب کی ہی اختراع ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی کونے کی معلوم تاریخ مزہب کے باعث ہی معلوم بن پڑی ہے ، آپ ایک لمحے کے لیے تمام مذاہب کو دنیا سے مٹا دیجئے اور دیکھیے کہ پیچھے "انسانیت" نام کی کیا چیز باقی بچتی ہے. کونسا سا قانون، کونسا ضابطہ کونسا انصاف، کونسا اخلاق، کونسا احترام دنیا میں باقی رہتا ہے.
رہی بات ہم جیسے مسلمانوں کی تو ہمارے نزدیک معیار، ہم سے پہلے آنے والے تمام مذاہب کا احترام کے ساتھ ہمارا اپنا مذہب جو کہ پچھلے تمام الہامی مذاہب کا سردار ہے. اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت، رحمت اللعالمین ہیں، لہذا ان کی تعلیمات سے متصادم ہر نظریہ چاہے وہ کسی مخصوص وقت یا دور میں کتنا ہی پر اثر اور فائدہ مند کیوں نہ ہو ہمارے نزدیک نا قابل قبول تھا، ہے اور رہے گا.
تحریر
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔