دین کی راکٹ سائینس

1 comments
بالخصوص" دین "اسلام کوئی Super Natural چیز نہیں ہے کہ جس کو سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے آپکوکوئی مخصوص قسم کا چُغہ یا دستار پہننی پڑے گی(اس اعتبار سے کہ یہ فرض نہیں ہیں )،دور دور کا سفر کرنا پڑے،کہیں مجاور بن کر بیٹھنا پڑے گا یا کئی خفیہ راز ہیں جن کو حاصل کرنا پڑے گا، دین توچلتے پھرتے کاروبار دنیا کے بیچ رہتے ہوئے احکام الہی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوۃ کی پاسداری کا نام ہے۔دین میں کوئی بھی چیز خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس میں کوئی جادو منتر یا Spell نہیں ہے۔خطبہ حجۃ الوداع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
وقد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعده إن اعتصتم به: کتاب الله، وأنتم تُسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأدّیت ونصحت،فقال بإصبعه السبابة، یرفعها إلى السماء وینکتها إلى الناس: اللهم! اشهد، اللهم! اشهد ثلاث مرات
(صحیح مسلم :۲۹۴۱، صحیح سنن ابی داود للالبانی :۱۹۰۵، ابن ماجہ :۱۸۵۰، الفتح الربانی :۲۱؍۵۸۸)
اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔
یہ سن کر آپﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔‘‘ (الرحیق المختوم: ص ۷۳۳)
قابل غور بات یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا کوئی پہلو بھی عمل سے خالی نہیں چھوڑا ہے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گواہی کے بعد اور اس گواہی میں اللہ تعالی ذوالجلال کو شامل کر لینے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی "اسم اعظم" ایسا رہ گیا ہو جس کو عام مسلمانوں تک نہ پہنچا دیا گیا ہو ، شریعت کے مسائل اور تعلیمات میں تو کہیں شرم رکھی ہی نہیں گئی ، ناخن کاٹنے سے سے کر کفن تک کے تمام مراحل میں مفصل اور مدلل احکامات ہمارے پاس اسلاف کی محنت اور کوشش سے موجود ہیں اور وہ احکامات ہر صورت حال میں تا قیامت "قابل عمل " ہیں ۔ اس دوران جدید مجتہدین اور صوفیاء اکرام کی جانب سے جو بھی Rocket Science ایجاد ہو گی اس کا موازنہ اس صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کے Model سے کیا جائے گا یاد رہے اگر کوئی عمل حرام اور حلال کے درمیان قائم Gray Area میں موجود ہوا تو اس میں اس عمل کو فوقیت دی جائے گی جو بالترتیب حلال کی جانب زیادہ مائل ہوگا۔


تحریر
ملک انس اعوان


1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔