میں ایک دوست کے انتظار میں ہاتھ باندھے فوارہ چوک اٹک میں کھڑا ہوا تھا۔وقت گزارنے کے لیے دائیں بائیں نظر دوڑانے لگا تو اٹک میڈیکل سٹور کے تھڑے پر ایک مفلوک الحال اور بے سروسامانی میں موجود ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی بغل میں اس کا بچہ بیٹھا ہوا تھا جو بار بار اپنے والد سے اٹھکیلیاں کر رہا تھا۔وہ آدمی کچھ دیر میں جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے اور ایک سگریٹ نکال کر منہ سے لگاتا ہے اور دوسری جیب سے ماچس کی ڈبی۔ وہ ماچس کی ڈبی سے ایک دیا سلائی نکالتا ہے اور جلاتا ہے لیکن اس کا معصوم بیٹا پھونک مار کر اس کو بُجھا دیتا ہے۔والد کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے اور وہ ڈبی میں سے دوسری دیا سلائی نکال کر جلاتا ہے لیکن اگلے ہی لمحے اس کا بیٹا پھر آگ کو بجھا دیتا ہے۔اسی طرح دونوں باپ بیٹا اس کھیل کو تب تک جاری رکھتے ہیں جب تک کہ ماچس کی ڈبی خالی نہیں ہو جاتی۔آخر کار وہ آدمی خالی ماچس کو پھینک دیتا ہے اور سگریٹ کو واپس جیب میں رکھ لیتا ہے۔جس کے بعد وہ اپنے بچے کو اُٹھاتا ہے اس کے ماتھے کو چومتا ہے اور وہ دونوں پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکیلیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں ہیں لیکن یہ دیکھنے کے بعد میں نے اپنا انظار ادھورا چھوڑتے ہوئے ہاسٹل کی راہ لی اور کچھ دیر سوچتا رہا ، شاید بہت سے سولات کے بہت سے جوابات مجھے مل چکے تھے۔اور میں قدرے مطمئن بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر
محمد انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔