میں بدلتا جا رہا ہوں
لمحہ لمحہ
بکھرتا جا رہا ہوں
اَن چھوئی موم کی صورت
گرمیِ ہجر میں ڈھل کر
حدت شوق میں جل کر
پگھلتا جا رہا ہوں
شرم دے رہی ہے زیب
خود کو اور
میں
اُلجھتا جا رہاہوں
گویا میرے ہم عصروں میں
کوئی بھی میرا ہم عصر نہیں
یعنی
اپنے مرکز سے
بھٹکتا جا رہا ہوں
دیدہ ذیب و خوش رنگ
عکس ہائے دنیا میں
دلوں سے
اترتا جارہا ہوں
میں بدلتا جا رہا ہوں
-----
انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔