اب وہ طبعیت نہیں رہی

0 comments
اب وہ طبعیت نہیں رہی
اب وہ شوق نہیں رہا
عادات اب تلک ہیں باقی
ان میں وہ تسلسل نہیں رہا
جب مِلیں گے رہیں گے تلخ
اب باہم تکلف نہیں رہا
چلتی سانسوں کے ساتھ تھے رشتے
مر گئے تو کوئی تعلق نہیں رہا
ٹھہر ٹھہر کر گزر ائے شامِ زرد

تیری سرخی سے کوئی تردد نہیں رہا

-------
ملک انس اعوان
Twitter:AnasInqilabi

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔