جو میں ضبط کرتا ہوں
وہی تحریر کرتا ہوں
کبھی پورا نہیں ہوتا
سبھی کچھ نہ مکمل ہے
میرے احساس کی الجھن
میرے احباب کا گلشن
وہاں سب رنگ ادھورے ہیں
سبھی کچھ نا مکمل ہے
کوئی ہستی نہیں میری
کوئی رستہ نہیں میرا
کوئی کتبہ نہیں میرا
سبھی کچھ نا مکمل ہے
کوئی تدبیر حکمت کی
کوئی والی امانت کا
کہاں پر مر گیا واعظ
سبھی کچھ نا مکمل ہے
محبت راس آجائے
خدانخواستہ تم کو
سنو روح کے نکلنے تک
سبھی کچھ نا مکمل ہے











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔