دریائے راوی کے کنارے کھڑے ہو کر مجھے دریا کے گدلے پانی میں اس نفس شمار معاشرے کا عکس نظر آ رہا تھا۔ بالکل اندر سے آلودہ دھویں سے بھرے ہوئے جس کے پار کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔میری دائیں جانب ناجانے کس جانور کا صدقے کا گوشت سرخ مومی تھیلوں میں تھامے ہوئے چندغریب دوسرے غریبوں کو جو وہاں گاڑیوں میں گزرتے ہیں، پیسے لے کر اتنی ہی مالیت کا گوشت فضا میں اچھال دیتے ہیں جو اس بڑے شہر کی بڑی چیلیں حلال سمجھ کر پانی میں گرنے سے پہلے اچک کر کھا لیتی ہیں اور اس کے حلال ہونے کی گواہی ساتھ ہی ساتھ دریا کا آہنی جھولتا ہو پل دے رہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔!
انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔