68 سال کا بوڑھا

1 comments
 وہ لگ بھگ 68 سالوں سے اسی دروازے کو دیکھ رہا ہے جہاں سے کبھی  شیراونی پہنے کوئی فرد داخل ہوتا ہے اور کبھی  دھم دھم کی آواز کے ساتھ وردی پہنے بھاری بھاری فوجی بوٹوں والاکوئی آدمی اس گھر  کی دہلیز کو روندتا چلا جاتا ہے۔
کتنے سال کتنے موسموں اور کتنے لوگوں کو دیکھنے والا شخص اب اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔اس کی چھوٹی چھوٹی اندرونی بیماریاں اب ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہیں ۔اس کے بالوں میں زمانے کی گردش کے بائث چاندی اتر آئی ہے اور گہرے زخموں کے بائث اس کے کپکپاتے ہاتھ اسکے جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں ۔
اس کا ایک بازو کئی سال پہلے کاٹ کر مشرق کی جانب پھینک دیا گیا اور اس کو اٹھا کر گھر کے مغربی حصے میں پھینک دیا گیا۔اس کی شاہ رگ بھی ایک دشمن کے ہاتھ میں ہے اور وہ کھڑکی جہاں سے سورج کی  نوخیز  کرنیں گھر کے آنگن میں داخل ہو رہی ہیں وہاں کھڑا ہو کر گلی کے بیچ میں باہم لڑتے ہوئے بچوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ 
میرے بچو!

 مجھے بچا لو۔۔۔!



تحریر
ملک انس اعوان 



1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔