وہ
لگ بھگ 68 سالوں سے اسی دروازے کو دیکھ رہا ہے جہاں سے کبھی شیراونی پہنے
کوئی فرد داخل ہوتا ہے اور کبھی دھم دھم کی آواز کے ساتھ وردی پہنے بھاری
بھاری فوجی بوٹوں والاکوئی
آدمی
اس گھر کی
دہلیز کو روندتا چلا جاتا ہے۔
کتنے
سال کتنے موسموں اور کتنے لوگوں کو دیکھنے والا شخص اب اندر سے کھوکھلا ہو چکا
ہے۔اس کی چھوٹی چھوٹی اندرونی بیماریاں اب ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہیں ۔اس
کے بالوں میں زمانے کی گردش کے بائث چاندی
اتر آئی ہے اور گہرے زخموں کے بائث اس
کے کپکپاتے ہاتھ اسکے جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں ۔
اس کا
ایک بازو کئی سال پہلے کاٹ کر مشرق کی جانب پھینک دیا گیا اور اس کو اٹھا کر گھر
کے مغربی حصے میں پھینک دیا گیا۔اس کی شاہ رگ بھی ایک دشمن کے ہاتھ میں ہے اور وہ
کھڑکی جہاں سے سورج کی نوخیز
کرنیں گھر کے آنگن میں داخل ہو رہی ہیں وہاں کھڑا
ہو کر گلی کے بیچ میں باہم لڑتے ہوئے بچوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ
میرے
بچو!
مجھے
بچا لو۔۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان











عمدہ تحریر زبردت کاش ہم اس ملک کی قدر کر سکیں