تھکن

0 comments
یوں تھک کر کوئی  شام   گرا  دے     گی  مجھے
رفتہ   رفتہ  یہی   خاک    گھُلا   دے   گی   مجے
میں ابھی سے ہی ہنگامہِ    ہستی سے  تنگ   ہوں 
پھر  حقیقت     سرِ  محشر اُٹھا  دے   گی   مجھے
تھا میرا گماں اور  یہ   قسمت  میں    لکھا    کچھ
زیست ہوائے   موافق  سے   لڑا دے  گی  مجھے
اب کہیں پر بھی  نشاں   میرے   نہیں  ہیں   شاید
زندگی اور حسابوں   میں   لگا دے   گی   مجھے
میں گریزاں ہوں مگر کس سے مجھے کیا  معلوم
جس سے ٹیکوں گا وہی دیوار گرا دے گی مجھے

انس اعوان 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔