اندر کا کافر

0 comments

بارش کی ہلکی ہلکی سی آواز بھی کانوں میں شور پیدا کر رہی تھی. اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے وہی مانوس سا منظر،ساتھ والے پلنگ پر کپڑے اور دیگر سامان بکھرا پڑا تھا جو بتا رہا تھا کہ ساتھی صبح سویرے ہی آبائی شہر روانہ ہو چکے ہیں. کمبل اٹھا کر ایک جانب رکھتا ہوں اور جوتے پہن کر باہر ہاسٹل کے چوبارے سے بارش کو گرتا ہوا دیکھنے لگتا ہوں. غور کرنے کے باوجود بھی بارش محض بارش ہی رہتی ہے، نہ اسکا رنگ بدلتا ہے اور نہ ہی اس کے قطرے کوئی خاص معانی و مفہوم پیدا کر پاتے ہیں. وہی پانی والی بارش، وہی بازار اور اس میں آنے جانے والے لوگ، سیمنٹ کے بنے ہوئے مکانات، الجھے ہوئے بجلی کے تار سب کچھ ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا وہ ہے. عجیب خالی جالی پن تھا جیسے طبعیت میں کچھ باقی رہ گیا ہو. وقت دیکھتا ہوں تو ابھی صبح کے صرف 7 بج رہے تھے. واپس بستر میں جاتا ہوں اور مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیتا ہوں کہ
"صد شکر آج اندر کا کافر سو رہا ہے".

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔