اب سے ٹھیک چند دن کیا بلکے گھنٹوں بعد دنیا میں رائج عیسوی کلنڈر اپنا آخری ہندسہ بدلے گا اور اس طرح دنیابھر میں سال 2017 کا آغاذ ہو جائے گا، کل ملا کر 366 دن جو 52 ہفتے اور 2 دن بنتے ہیں ماضی کے صفحات میں ضم کر دیے جائیں گے ۔سو اب اگر بیٹھے بیٹھے اس سال کے اہم واقعات پہ نظر پڑے تو ہاتھ مسلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ، کیونکہ ہم بہر حال مخلوق ہیں ,تقدیر کے پابند ہیں ،ہمارا تخیل ہم سے بر عکس انتہائی آزاد ہے ۔ان دو انتہاؤں کے درمیان وقت جس تیزی سے انسان کو گھسیٹتا ہے یہ احساس رکھنے والے خوب جانتے ہیں ، جاننے کا یہ تجربہ بھی وقت کا پابند ہوتا ہے ،جوں جوں وقت کی سوئیاں زندگی کے مدار پہ چکر کاٹتی آگے بڑھتی جاتی ہیں ، چہرے ، منظر اور ان مناظر کے ترشے ہوئے خدوخال مزید واضح ہو تے چلے جاتے ہیں ، ایسا بہت کچھ جو لکھا ہوا کسی وقت میں پڑھا جاتا ہے درست ثابت ہوتا ہے اور اور کچھ ایسا بھی متن ہونا ہے جس کے مفہوم کو تجربات کی کسوٹی غلط ثابت کر دیتی ہے۔کچھ کو ہم تسلیم کر لیتے ہیں اور کچھ حقیقتوں کو ذہن رد کر دیتا ہے ، مگر جب عقل کی نمی ضد میں نرمی لاتی ہے تو ذہن ان کو رفتہ رفتہ تسلیم کرنے لگتا ہے ۔
یہ سال تسلیم کا سال رہا ،صبر اور مزید نرمی اختیار کرنے کا سبق دے گیا۔ نقصانات اتنے کہ جنکا ازالہ ممکن نہیں مگر اللہ تعالی کے اتنے انعامات کہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک اہم چیز جو کسی حد تک سیکھنے کو ملی وہ خود احتسابی رہی ، چاہے وہ معمولی نوعیت کی ہی ہو یا بڑھتی عمر کا ہی اثر ہو مگر بہرحال ایک حقیقی صورت میں اس سے شناسائی ممکن ہو پائی ہے ۔ خود سے دور کسی اور کی نظر سے خود کو دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش جاری رہی ہے ، اور ہمارے لیے اس کی کوشش کرنا اس کے حاصل کرنے کے زیادہ اہم ہے ۔
اپنی کمیاں کوتیاہیاں غلطیاں بار بار سامنے آ نے کے باوجود ان کے حل اور ان کی جانب رجوع کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔مزاج کا ظاہری ٹھہراؤ اندرونی بے چینی سے میل نہ کھانے کے باعث بے وجہ کی پرملال کیفیت سے دوچار رہا ہے ۔ ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔
اپنی زندگی کے بدرترین لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے الحمداللہ اس وقت کے بہترین لوگوں کو اپنا منتظر پایا ہے ،ان کی موجودگی اور ان کا خلوص میرے لیے سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ انکو دینے کے لیے میرے پاس دعاؤں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی حیات کی تلخیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھنے ، مستقبل کو سنوارنے اور تعمیرکرنے ، اپنے رستے میں قبول کرنے ، مثبت توقعات پہ پورا اترنے ، جوانی کو بہترین جگہ کھپانے ،سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
تحریر:
ملک انس اعوان
30 دسمبر2016 ،
اٹک ،پنجاب ،پاکستان
یہ سال تسلیم کا سال رہا ،صبر اور مزید نرمی اختیار کرنے کا سبق دے گیا۔ نقصانات اتنے کہ جنکا ازالہ ممکن نہیں مگر اللہ تعالی کے اتنے انعامات کہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک اہم چیز جو کسی حد تک سیکھنے کو ملی وہ خود احتسابی رہی ، چاہے وہ معمولی نوعیت کی ہی ہو یا بڑھتی عمر کا ہی اثر ہو مگر بہرحال ایک حقیقی صورت میں اس سے شناسائی ممکن ہو پائی ہے ۔ خود سے دور کسی اور کی نظر سے خود کو دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش جاری رہی ہے ، اور ہمارے لیے اس کی کوشش کرنا اس کے حاصل کرنے کے زیادہ اہم ہے ۔
اپنی کمیاں کوتیاہیاں غلطیاں بار بار سامنے آ نے کے باوجود ان کے حل اور ان کی جانب رجوع کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔مزاج کا ظاہری ٹھہراؤ اندرونی بے چینی سے میل نہ کھانے کے باعث بے وجہ کی پرملال کیفیت سے دوچار رہا ہے ۔ ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔
اپنی زندگی کے بدرترین لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے الحمداللہ اس وقت کے بہترین لوگوں کو اپنا منتظر پایا ہے ،ان کی موجودگی اور ان کا خلوص میرے لیے سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ انکو دینے کے لیے میرے پاس دعاؤں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی حیات کی تلخیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھنے ، مستقبل کو سنوارنے اور تعمیرکرنے ، اپنے رستے میں قبول کرنے ، مثبت توقعات پہ پورا اترنے ، جوانی کو بہترین جگہ کھپانے ،سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
تحریر:
ملک انس اعوان
30 دسمبر2016 ،
اٹک ،پنجاب ،پاکستان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔