نہ مروت نہ تعجب نہ تکلف نہ بیان
لحظہ لحظہ ابھرتے ہوئے مرتے ہوئے امکان
روح و ہستی میں اترتے ہوئے خاریدہ گلفام
گھبراتے ہوئے کتراتے ہوئے دشمن بدنام
اب مجھے موج تبسم میں رواں دیکھیں گے
حال و ماضی کے تصور سے نہاں دیکھیں گے
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔