اپنی زندگی تو ایک ٹرین کی طرح ہے جہاں
تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سٹیشن قائم ہیں۔ہر سٹیشن پرلوگ سوار ہو جاتے ہیں۔کچھ آشنا بن
جاتے ہیں اور کچھ خاموشی قائم رکھتے ہیں۔لیکن جیسے ہی اگلا سٹیشن آتا ہے آشنا اور نا آشنا سب برابر ہو جاتے ہیں اور اتر جاتے ہیں۔سفر کا
تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور نئے لوگ سوار ہو جاتے۔الگ الگ طبعیت اور مزاج کے حامل لوگ
پھر سے شریک سفر بنتے ہیں۔وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔میری دونوں جانب منظر اور چہرے بدلتے رہتے ہیں۔دل میں
خواہش رہتی ہے کہ کوئی تو چہرہ اور منظر ان آنکھوں کے سامنے ٹھہر جائے لیکن کبھی
حالات اور کبھی وقت اثر انداز ہو جاتا ہے۔ذہن میں ایک لسٹ سی تیار ہو جاتی
ہے۔ہزاروں چہرے ،لہجے،مزاج اور واقعات کی
فہرست تیار ہو جاتی ہے۔جب کبھی زندگی کا گزر کسی سنسان اور بے آباد سٹیشن سے ہوتا ہے تو چند لمحے میں
سفر روک لیتا ہوں۔اور پلٹ کر ماضی میں لوگوں کی فہرست دیکھنے لگتا ہوں،اور سوچتا
ہوں کہ اس خاموشی سے تومطلبی لوگوں کی وہ چہل پہل ہی اچھی تھی جن کے لیے میری
حیثیت بس منزل پر پہنچانے کے لیے ایک وسیلے کی
تھی۔ان کے ہونے سے کم از کم کچھ رونق تو تھی۔میں مانتا ہوں کہ وہ کچھ مطلب و مصلحت کے تحط ہی میرا ساتھ نبھا رہے تھےلیکن ساتھ تو تھے۔چلو
زیادہ نہیں ایک سٹیشن سے دوسرے سٹیشن تک
کا ساتھ تو موجود رہا۔لیکن اب سٹیشنز کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ایک ایک کر کے سب
اپنی اپنی منزلوں کی جانب گامزن ہو جائیں گے۔اورمیرا آخری سٹیشن آ جائے گا۔پھر بھی
ان کو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔میرے بعد وہ کسی اورگاڑی میں سوار ہو جائیں گے۔سفر جاری رہے گا لیکن ہم نہیں ہوں گے۔
چراغِ
زندگی ہوگا فروزاں، ہم نہیں ہونگے
چمنمیں آئے گی فصل بہاراں، ہم نہیں ہونگے
ہمارے
ڈوبنے
کے بعد ابھریں گےنئے تارے
جبیں
دہر پہ چھٹکے گی افشاں، ہم نہیں ہوں گے
نہ
تھا اپنی ہی قسمت میں طلوع مہر کا جلوہ
سحر
ہو جائے گی شامِ غریباں، ہم نہیں ہوں گے
-------------
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔