::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
ڈر لگتا ہے جب لوگ ہماری جان کی پرواہ کیے
بغیر اپنی چند خواہشات کو پورا کرتے ہیں ۔ جب ہم مُڑ کر انکی خواہشات کے سجے دھجے
محل کے اندر تلاش کے باوجود اپنے آپ کو ڈھونڈ نہیں پاتے تو لرز کر رہ جاتے ہیں۔
عجیب لگتا ہے جن لوگوں کو ہم اپنی زندگی کا کُل سمجھتے ہیں اُنکی اپنی زندگی میں
ہماری حیثیت جُز کی بھی نہیں ہوتی۔ہم احساس میں پگھلتے ہوئے لوگوں کا سامنا جب
گوشت سے بنے مادیت پسند انسانوں سے ہوتا ہے تو ہم اندر ہی اندر خود کو مارنے لگتے
ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ احساس سے عاری لوگ ہماری توقعات پر پورے نہیں اُتر
سکتے۔ہم وہ پھول ہیں جو کھارے پانی میں نہیں اُگتے۔صبح جب شعور کا سورج اُفق پر
نمودار ہوتا ہے تو ہم حرص ،لالچ ،تکبر اور غرور کے لبادے اُتار کر گلیوں کوچوں میں
نکل جاتے ہیں۔جہاں دنیا ہمیں دیکھتی،دھتکارتی،ٹھٹھے اُڑاتی اور جانچتی ہے۔سر شام ہمارے’’ کاسے’’ میں درد اور افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔نتیجہً
احساس کے چرخے پر حسرتوں کا سوت کاتتے ہوئے رات کاٹ لیتے ہیں۔اسی شب و روز کے گھن
چکر میں ہم اپنی ہستی کو گھٹاتے رہتے ہیں ۔یہ عمل سالوں چلتا ہے اور باقی بچتا ہے
ضعیف، لاچار،کانپتے ہاتھوں اور جھریوں زدہ چہرے والا گوشت اور ہڈیوں پر مشتمل
انسان،جسے لوگ مرنے کے لیے کسی تاریک کونے میں پھینک دیتے ہیں۔جہاں وہ اپنی ماضی
کی کتاب کو اُلٹتے پلٹتے،چہروں کو یاد
کرتے ہوئے اپنے جسم کے پنجرے میں قید
بےکار روح کو آزاد کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔سب کچھ تحلیل ہو جاتا ہے۔۔۔۔سوچ ، فکر
،شعور، علم، دولت ،شہرت،نام ،کام ،دام اور اولاد سب 6 فٹ کی مردہ سلطنت میں آنً
فانً تحلیل ہو جاتے ہیں۔۔۔اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔
ڈائری:انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔