سیال ہوا

0 comments

ہمیں افسوس ہے کہ شیخوپورہ آ کر ہوا اور بادلوں سے اپنی دوستی کو برقرار نہیں رکھ پائے ، اس میں قصور صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ اوروں کا بھی ہے. اول تو اب اہتمام سے ہوا کے انتظار میں بیٹھنا لاحاصل ہو چکا ہے کیونکہ سرسبز میدانی کھیتوں کو چھو کر آنے والی ہوا جب سڑک کے دونوں اطراف بھانت بھانت کے ان گنت کارخانوں کے سیاہی اگلتے بلند قامت دہانوں سے گزرتی ہے تو ان کی سیاہی اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کی پریشانیاں اپنے تن بدن میں بھر لیتی ہے. اب یہ بےزار ہوا اگر کارخانوں کے صحن پھاند پھاند کر ہمارے تک پہنچی بھی تو کیا پہنچی؟
ارے ہاں بادلوں کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے مگر میدانی علاقوں کے بادل زرا مختلف مزاج کے ہوتے ہیں، یہ اہل پنجاب کی طرح سادہ ہی ہوتے ہیں اور انکے بارے میں ہر اندازہ درست ثابت ہوتا ہے. یہ آجائیں تو برستے ضرور ہیں، اس لیے ان میں تجسس کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے. اس طرح انتظار کا لطف جاتا رہتا ہے. اور رہی بات بارش کی تو اس سے پہلے ہی نفرت کا رشتہ ہے، بھلے نفرت کا ہی صحیح مگر ایک تعلق تو ہے جو غیر مشروط طور  پر ایک طویل عرصے سے نبھایا جا رہا ہے ....!

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔