کبھی کبھی میں اپنی زات کو ہوا میں معلق پاتا ہوں اور کبھی کبھی اس چند ماہ کے بچے کی طرح جو اپنی ماں کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے کمزور اعضاء پر زور ڈال کر کھڑا ہو کر اپنی ماں کی جانب جانا چاہتا ہے.اور اسی دوران جب اسکی ماں اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھتی ہے تو اس کے ننھے منے ہاتھوں میں اپنی انگلی تھما دیتی ہے جسے وہ بچہ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے، اور ماں اور بچے کے درمیان فاصلہ کم ہوتا چلا جاتا ہے، لیکن دوسرے ہی لمحے کوئی غلطی سر زد ہونے کی صورت میں گر جاتا ہے. وہ پھر بھی اپنے ہاتھوں سے ماں کی انگلی تھامے رکھتا ہے اور دوسری کوشش میں جُٹ جاتا ہے اسی طرح دوسری، تیسری اور ایسی ہی لا تعداد کوششیں کرتا چلا جاتا ہے. ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ماں اس کو اٹھا کر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے. یہ تو تھی ایک ماں اور ایک وہ رب بھی تو ہے جو اپنے بندے سے 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے. تو پھر غلطی کیجیئے مگر اپنے ہاتھوں سے اللہ کی رسی کو مت جانے دیجیے لپک کر تھام لیجیے، وہاں تک جہاں تک دم قائم ہے. اور ہر بار گناہ کے باعث گرنے کے بعد فلاح کی جانب پیش قدمی بڑھا دیجیے.واصف علی واصف ایک جگہ فرماتے ہیں کہ روشنی کی تلاش میں مارا جانے والا پروانہ اور روشنی کو پا کر مر جانے والا پروانہ دونوں کامیاب ہیں. کیونکہ انکا مقصد روشنی تھا.
کیونکہ اللہ سے تعلق کوئی Physical Structure (مادی ہیت) نہیں رکھتا تو اس کی مادی ہیت دراصل عبادات اور اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر معاملات اور معاشرت میں پنہاں ہے.لیکن پھر اس کے بعد یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ رب جو اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ الفت رکھتا ہے اس کی مخلوق میں صرف آپ ہی نہیں بلکہ دوسرے تمام افراد بھی موجود ہیں جن پر آپکے اثرات واسطہ یا بلاواسطہ طور پر پڑتے ہیں. اب جس قدر محبت ہو گی اسی قدر اس کا حساب بھی لیا جائے گا،چناچہ رب العالمین نےاسی لیے حقوق العباد صرف اسی صورت میں معاف کیے ہیں جب تک کہ متعلقہ فرد بذات خود اس شخص کو معاف نہ کردے،. کیونکہ
میرے اللہ کو اس کی ساری مخلوق محبوب ہے.
اور اس کی رحمت بھی لا محدود ہے.
اور وہ ہر جگہ موجود ہے.....
کیونکہ اللہ سے تعلق کوئی Physical Structure (مادی ہیت) نہیں رکھتا تو اس کی مادی ہیت دراصل عبادات اور اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر معاملات اور معاشرت میں پنہاں ہے.لیکن پھر اس کے بعد یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ رب جو اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ الفت رکھتا ہے اس کی مخلوق میں صرف آپ ہی نہیں بلکہ دوسرے تمام افراد بھی موجود ہیں جن پر آپکے اثرات واسطہ یا بلاواسطہ طور پر پڑتے ہیں. اب جس قدر محبت ہو گی اسی قدر اس کا حساب بھی لیا جائے گا،چناچہ رب العالمین نےاسی لیے حقوق العباد صرف اسی صورت میں معاف کیے ہیں جب تک کہ متعلقہ فرد بذات خود اس شخص کو معاف نہ کردے،. کیونکہ
میرے اللہ کو اس کی ساری مخلوق محبوب ہے.
اور اس کی رحمت بھی لا محدود ہے.
اور وہ ہر جگہ موجود ہے.....
تحریر
انس اعوان
انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔