میں اپنی آنکھیں نکال دوں گا
نہ اپنا رستہ کسی کو دوں گا
ہجر کی سولی پہ جان دوں گا
نہ زاد وصال کسی کو دوں گا
جو عشق مانگے جناب حاظر
نہ میں پلٹ کر سوال دوں گا
تیرے ہی لہجے میں ایک دن میں
ہاں تیرے لہجے کو مات دوں گا
اگر میری ضد کو نہ میرے دل میں
نہ میرے دل نے جگہ دی تو
تو اپنے ہاتھوں سے اپنے دل کو
خدا قسم ہے کہ کاٹ دوں گا
ابھی تخیل کی انجمن میں
ہزار منظر بھٹک رہے ہیں
مگر ایک منظر کی جستجو میں
ہزار منظر اجاڑ دوں گا
ملک انس اعوان
--











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔