ضد

0 comments
میں اپنی آنکھیں نکال دوں گا 
نہ اپنا رستہ  کسی کو دوں گا
ہجر کی سولی پہ جان دوں گا 
نہ  زاد وصال کسی کو دوں گا
جو عشق مانگے جناب حاظر 
نہ میں پلٹ کر سوال دوں گا 
تیرے ہی لہجے میں ایک دن میں
ہاں تیرے لہجے کو مات دوں گا
اگر میری ضد کو نہ میرے دل میں
نہ میرے دل نے جگہ دی تو
تو اپنے ہاتھوں سے اپنے دل کو 
خدا قسم ہے کہ کاٹ دوں گا 
ابھی  تخیل کی انجمن میں 
ہزار منظر بھٹک رہے ہیں
مگر ایک منظر کی جستجو میں 
ہزار منظر اجاڑ دوں گا


ملک انس اعوان 


--

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔