ایک اور پاگل

0 comments
بات کچھ اس طرح سے ہے کہ ہمارے زیر استعمال ایک عدد رہائشی مکان نما دکان  جسے بطور دفتر استعمال کیا جا رہا تھا اس کا  بجلی کا میٹر  محکمہ برقیات کا عملہ بروقت میزان  ادا نہ کرنے کی بنیاد پر اتار کر لے گئے۔ اب جب ہمیں اس کا علم ہوا تو پہلے تو ہم نے دل میں ٹھان لی بس آج ہی اس میٹر کو بازیاب کروا کر لگوا دیا جائے گا مگر وہ "آج" آتے آتے 2 ہفتے بیت گئے آخر کار ایک مہربان نے خود ہی زحمت کی اور ہمیں متعلقہ محکمے میں لے گئے ، ان دنوں محکمے کی نجکاری کا شور اٹھ رہا تھا اس لئے محکمے کے تمام عملہ جلد از جلد پرانے کھاتوں کی درستی کے عمل میں مصروف تھا اسی بہانے ،ادھر اُدھر سے دستخط سبط کروانے اور فائل آگے  پہنچانے میں معمول سے زیادہ وقت صرف ہوا۔ 
پھر ہمیں ایک دفتر سے دوسرے فائل تھما کر بھیج دیا گیا ۔جیسے ہی دوسرے دفتر پہنچے سب سے پہلے والےکمرے میں چلے گئے جہاں "کمرہ برائے شکایات" کندہ تھا۔ دفتر میں ایک درمیانے قد اور پتلے جسم کے حامل صاحب اپنی کرسی پر نیم دراز حالت میں بیٹھے ہوئے تھے اور میز پر ایک عدد سفید کاغذ پر کچھ اشکال کو تخلیق کر رہے تھے۔ ہم بجائے اپنے کام کے انکے فن پارے کو دیکھنے لگے اور انکے قریب پڑی کرسی پہ جا بیٹھے اور سانس بھر کر سلام پیش کیا۔ان صاحب نے عینک کے پیچھے موجود آنکھوں کو حرکت دی اور میری جانب دیکھتے ہوئے شائستگی سے سلام کا جواب دیا ،اس شائستگی کے سامنے مجھے اپنےسلام پیش کرنے کے انداز پر ندامت ہوئی لیکن فوراً گفتگو کا آغاز کرنے کی غرض سے سوال کر دیا کہ جناب کیا شاہکار بنا رہے ہیں ؟
وہ صاحب عینک  میز پر رکھتے ہوئے اور قلم کو کاغذ پر نفاست سے رکھتے ہوئے فرمانے لگے کہ بیٹا میں احساسات میں ہنسوں کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہوں ،لیکن ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا ،ہمیشہ ہندسے احساسات پر سبقت لے جاتے ہیں ۔
اس کے بعد ان صاحب نے جو گفتگو کی وہ میرے لیے حیرت کا باعث تھی کہ اس محکمے میں کہ جس کو عوام ہر بار بجلی آنے اور جانے کی صورت میں متفرق اقسام کی گالیوں سے نوازتی رہتی ہے اسی محکمے میں ایک ایسا انسان بھی موجود ہے کہ جو اس محکمے کے لاکھوں صارفین سے زیادہ حساس اور درد دل رکھنے والا ہے۔ ان صاحب سے قریباً 20 منٹ گفتگو رہی لیکن میرےساتھ موجود دوست کا اصرار تھا کہ اب یہاں سے چلا جائے ، اسی لئے جلد از جلد ان سے اجازت لی اور واپسی کی راہ پکڑی اور خلاف آداب محفل کے اختتام میں ان صاحب کا نام دریافت کیا تو انہوں نے خندہ پیشانی سے اپنا اسم گرامی"تنویر" بتایا۔واپسی پر میرے ساتھ آئے ہوائے دوست فرمانے لگے کہ کیا پاگل آدمی تھا،تو میں زیر لب مسکرا دیا اور ان سے کہا کہ حضور اس دنیا میں پاگل اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ اگر ان میں کہیں کوئی درد دل رکھنے والا انسان مل بھی جائے تو حالات کی  ستم ظریفی  اس بیچارے کو پاگل قرار دے دیتی ہے کیونکہ " پاگل کبھی خود کو پاگل نہیں کہتے"۔

بقلم : ملک انس اعوان 



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔