مجھ جیسے کند ذہن ، کم ایمان و تقوی والے ایک یونیورسٹی کے طالب علم کے ذہن میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی انسان ساری زندگی با جماعت نماز ادا کرے،زکوۃ ادا کرے ،تہجد پڑھے، روزے رکھے الغرض تمام عبادات کو احسن طریقے سے ادا کرے اور اس کے بعدزندگی میں ہر پانچ سال بعد الیکشن میں ایک بد کردار ،بد دیانت ،بد فعل انسان کو ایک نیلی مہر کے ذریعے مسلمانوں پر حکمران منتخب کرے جس کے نتیجے میں ایک ایسی حکومت کا قیام عمل میں لائے جو پھر حدود اللہ میں ترمیم کرے ، اسلامی روایات کو نقصان پہنچائے اور بلآخر ایک ایسا ماحول فراہم کرے جہاں اسلام پر عمل پیرا رہنا قریباً نا ممکن ٹھہر جائے تو اس صورت میں وہ تمام عبادات(حقوق اللہ) ،نماز،روزے اور ان گنت حج کیا اس ایک نیلی مہر(حقوق العباد) کا کفارہ ادا کر سکتے ہیں ؟
آپ دین کو سیاست سے کس طرح علیحدہ کر سکتے ہیں اگر کر سکتے ہیں تو مجھے بھی کچھ ایسا وعظ کیجئے کہ میں بھی اس فتنے سے بچ سکوں ۔۔۔ وگرنہ ایک بات ذہن نشیں رکھیے کہ اللہ قیامت کے روز انسان سے اس کے اختیار کے برابر ہی سوال کرے گا،بس یہی بات مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔۔ برائے مہربانی راہنمائی فرما دیجئے۔۔۔۔۔۔!
اب اس جدید راہبانیت کا کچھ تو سر پاؤں ہو گا۔
اب زرا مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کا بیان بھی سن لیجئے۔
" حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ
مفتی اعظم پاکستان، بانی جامعہ درالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نے عمیق فکر پر مبنی درج ذیل تحریر تقریباً پچاس سال پہلے لکھی تھی۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس فکر کی آج جب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے اس بصیرت افروز تحریر کو خلفشار، معاشی بدحالی، بدامنی اور لاقانونیت کے دور میںہونے والے عام انتخابات میں رہنمائی کا صائب ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے ۔مولائے کریم ملکی عوام کو درست فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے کہ زور و زر اور غنڈہ گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزاز حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملت کے ہمدرد و سمجھدار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں لیکن عام طور پر اس کو ایک ہار جیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندہ سمجھ کر ووٹ لیے اور دیئے جاتے ہیں، لکھے پڑھے دیندار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کی نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے، جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذاب جہنم بنیں گے۔
اس حالت میں ان کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی، ہر زمانہ اور ہر جگہ کچھ لوگ حق پرست اپنے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر کو پیش نظر ضرور رکھتے ہیں۔
اُمیدواری:
کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو، وہ گویا پوری ملت کے سامنے دو چیزوں کا مدعی ہے، ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا امیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا، اب اگر واقع میں وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہے یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبہ سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نامزد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں وہ اگر امیدوار ہو کر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے، اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدر و خیانت کا مجرم ہوکر عذاب جہنم کا مستحق بن جائے گا۔اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی، اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلق خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، ان سب کی ذمہ داری کا بوجھ اس کی گردن پر آتا ہے ۔
ووٹ اور ووٹر:
کسی امیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں، ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ اس شخص میں اس کام کی قابلیت اور دیانت کی صفات ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے کہ ایسا نہیں تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبال دنیا و آخرت ہے، صحیح بخاری کی حدیث میں رسول کریم نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے، (مشکوٰة) اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے، (بخاری و مسلم)۔
اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے، محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد ہر ووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ترجمہ:جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے، اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور نااہل نالائق، فاسق ظالم کی بری سفارش کرتا ہے، تو اس کی برائی میں اس کا بھی حصہ لگتا ہے۔ ووٹ کی ایک تیسری شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہو تی، اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا، مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جو پوری قوم کے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے، ایک شہادت دوسرے سفارش تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت، تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
ضروری تنبیہ:
ووٹ دینا ثواب عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ترجمہ: ان دو آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کیلئے ادائیگی شہادت کے واسطے کھڑے ہو جائیں۔ ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں، ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدہ میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً ان لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں۔کسی حلقہ میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنی میں قابل دیانت دار معلوم نہ ہو، مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت کار اور خدا ترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیل شر اور تقلیل ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیسا کہ نجاست کے پورے ازالہ پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیل نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیل ظلم کو فقہاءرحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم
خلاصہ یہ ہے کہ:
انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے، آپ جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے، جس کام کے لیے یہ انتخابات ہو رہے ہیں، اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعہ جو نمائندگی سکسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا برے اقدامات کرے گا، ان کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی، آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔"
ملک انس اعوان
malikanasawan11@gmail.com
آپ دین کو سیاست سے کس طرح علیحدہ کر سکتے ہیں اگر کر سکتے ہیں تو مجھے بھی کچھ ایسا وعظ کیجئے کہ میں بھی اس فتنے سے بچ سکوں ۔۔۔ وگرنہ ایک بات ذہن نشیں رکھیے کہ اللہ قیامت کے روز انسان سے اس کے اختیار کے برابر ہی سوال کرے گا،بس یہی بات مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔۔ برائے مہربانی راہنمائی فرما دیجئے۔۔۔۔۔۔!
اب اس جدید راہبانیت کا کچھ تو سر پاؤں ہو گا۔
اب زرا مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کا بیان بھی سن لیجئے۔
" حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ
مفتی اعظم پاکستان، بانی جامعہ درالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نے عمیق فکر پر مبنی درج ذیل تحریر تقریباً پچاس سال پہلے لکھی تھی۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس فکر کی آج جب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے اس بصیرت افروز تحریر کو خلفشار، معاشی بدحالی، بدامنی اور لاقانونیت کے دور میںہونے والے عام انتخابات میں رہنمائی کا صائب ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے ۔مولائے کریم ملکی عوام کو درست فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے کہ زور و زر اور غنڈہ گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزاز حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملت کے ہمدرد و سمجھدار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں لیکن عام طور پر اس کو ایک ہار جیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندہ سمجھ کر ووٹ لیے اور دیئے جاتے ہیں، لکھے پڑھے دیندار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کی نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے، جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذاب جہنم بنیں گے۔
اس حالت میں ان کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی، ہر زمانہ اور ہر جگہ کچھ لوگ حق پرست اپنے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر کو پیش نظر ضرور رکھتے ہیں۔
اُمیدواری:
کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو، وہ گویا پوری ملت کے سامنے دو چیزوں کا مدعی ہے، ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا امیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا، اب اگر واقع میں وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہے یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبہ سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نامزد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں وہ اگر امیدوار ہو کر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے، اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدر و خیانت کا مجرم ہوکر عذاب جہنم کا مستحق بن جائے گا۔اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی، اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلق خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، ان سب کی ذمہ داری کا بوجھ اس کی گردن پر آتا ہے ۔
ووٹ اور ووٹر:
کسی امیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں، ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ اس شخص میں اس کام کی قابلیت اور دیانت کی صفات ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے کہ ایسا نہیں تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبال دنیا و آخرت ہے، صحیح بخاری کی حدیث میں رسول کریم نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے، (مشکوٰة) اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے، (بخاری و مسلم)۔
اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے، محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد ہر ووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ترجمہ:جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے، اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور نااہل نالائق، فاسق ظالم کی بری سفارش کرتا ہے، تو اس کی برائی میں اس کا بھی حصہ لگتا ہے۔ ووٹ کی ایک تیسری شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہو تی، اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا، مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جو پوری قوم کے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے، ایک شہادت دوسرے سفارش تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت، تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
ضروری تنبیہ:
ووٹ دینا ثواب عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ترجمہ: ان دو آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کیلئے ادائیگی شہادت کے واسطے کھڑے ہو جائیں۔ ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں، ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدہ میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً ان لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں۔کسی حلقہ میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنی میں قابل دیانت دار معلوم نہ ہو، مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت کار اور خدا ترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیل شر اور تقلیل ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیسا کہ نجاست کے پورے ازالہ پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیل نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیل ظلم کو فقہاءرحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم
خلاصہ یہ ہے کہ:
انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے، آپ جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے، جس کام کے لیے یہ انتخابات ہو رہے ہیں، اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعہ جو نمائندگی سکسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا برے اقدامات کرے گا، ان کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی، آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔"
malikanasawan11@gmail.com











بڑے لوگ بڑے لوگوں کے بڑے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ ان کے پاس ہم جیسے چھوٹے لوگوں کے چھوٹے سوالوں کا وقت کہاں لیکن ہر چھوٹے بڑے کے ہر سوال کا جواب جاننے والے کے پاس وقت ہی وقت ہے بس ہم اس کے پاس اپنے الجھے سوال لے جاتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔وہ یہ بھی جانتا ہے اس کے پاس اس کا بھی حل ہے اس نے ہمیں ہمارے دل کی صورت ایسا ساتھ عطا کر دیا جو چپکے سے جواب دے دیتا ہے بس ہم اسے نادان سمجھ کر چپ کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
عبادات اور معاملات (حقوق العباد) دو علحیدہ باتیں ہیں۔ ہر دو کی علحیدہ سزا اور جزا ہے۔ مثلاً اگر میں ایک ایسے شخص کو ووٹ دے کر منتخب کرتا ہوں جو پاکستان میں اسلامی حدود کا خیال رکھتے ہوئے ایک اصلاحی معاشرہ تشکیل دیتا ہے لیکن میں نماز نہیں پڑتا اور فرضیت کے باوجود حج بھی نہیں کرتا اور پھر یہ امید لگاتا ہوں کے کیوں کے میں نے ایک اسلامی شخص کو ووٹ دیا ہے اس لیے نماز روزہ معاف تو یہ میری بے وقوفی ہو گی۔،بلکل یہی بات اپکے سوال پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
یہی بات مولانا نے سلیم صحافی کے پروگرام میں بھی کہی تھی کے عبادات اور معاملات دو علیدہ باتیں ہیں اگر اپ نے اخرت کے امتحان میں پاس ہونا ہے تو پھر دونوں میں پاس ہونا گا ایک میں بھی فیل تو فیل :ڈ
یہ قانون ہے جو میں نے ڈاکٹر طارق جمیل اور ڈاکٹر زاکر نائیک سمیت متعدد علماء سے سنا۔باقی اللہ کی زات پر منحصر ہے وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے نا بخشے۔
سوال پوچھنا اچھی بات ہے۔ لیکن اس کے میڈیم جسے آپ طریقہ کار بھی کہہ سکتے ہیں، کا درست انتخاب بہت اہم ہے!