بارش اچھی ہو تی یا بری اس پر مخلتف رائے ہو سکتیں ہیں ۔خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ دنیا میں اربوں کروڑوں افراد بستے ہیں آپ سب سے اگر فرداً فرداً بھی پوچھ لیجیے تو سب کا جوب ایک دوسرے سے مختلف ہوگا۔ کسی بھی چیز کے اچھے یا برے لگنے کا تعلق دل سے ہوتا ہے ۔اگر اندر کا موسم اچھا ہو تو چاہے بارش ہو یا دھوپ دونوں بھلی لگتی ہیں۔اب بادل کو ہی دیکھ لیجئے ہم کب سے انتظار میں ہیں کہ کب بارش رکے اور ہم دائیں بائیں چکر ہی لگا آئیں۔بارش سے تو ویسے بھی ہماری جان جاتی ہے۔اند کا موسم بھی ایک عرصے سے ایک سا ہی ہے ۔باہر بھی بارش اور اندر بھی بارش، نتیجہ یہ ہے کہ ہر طرف جل تھل ہے۔ایک بات یہ بھی ہے کہ اس شہر کی مٹی سے وہ خوشبو نہیں آتی جو پنجاب کی پیاسی زمیں کا خاصہ ہے۔یا یوں بھی ممکن ہے کہ خوشبو آتی ہو اور ہمیں محسوس نہ ہوتی ہو ۔
بس کام کی بات تو یہ ہے کہ موسم ہو یا مزاج جب ٹھہر جاتے ہیں تو تکلیف دیتے ہیں۔حالات کی مناسبت سے کچھ تبدیلیاں ضرور لانی چاہئیں۔۔۔
سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے
بس کام کی بات تو یہ ہے کہ موسم ہو یا مزاج جب ٹھہر جاتے ہیں تو تکلیف دیتے ہیں۔حالات کی مناسبت سے کچھ تبدیلیاں ضرور لانی چاہئیں۔۔۔
سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔