ٹوٹکے

0 comments
کہا جاتا ہے کہ زبان معلومات کے تباد لے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے اور پاکستان میں ہر 20 کلومیٹر کے بعد لہجہ تبدیل ہو جاتا ہے۔لیکن
اگر آپ میری طرح وسطی پنجاب سے اٹک آئے ہیں اور یہاں کی مقامی زبان جسے کچھ لوگ سرائیکی کہتے ہیں اور کچھ ہندکو خیر جو بھی ہے سیکھنا چاہتے ہیں تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ۔ہم ہیں ناں ۔۔!
چلیں آ پ کو چند ٹوٹکے بتاتے ہیں۔2 ٹوٹکے پیش خدمت ہیں۔

ٹوٹکا نمبر1:

پنجابی کا معیاری لہجہ جسے ماجھی کہا جاتا ہے اور لاہور،شیخوپورہ بالخصوص فیصل آباد کے ملحقہ علاقوں میں بولا جاتا ہے،اس کو دیکھا جائے تو سوائے NOUNS (اسم) کے تمام افعال (Verbs) کے ساتھ "د" کی جگہ "ن" بولا جائے۔
مثلاً
اردو : آپ پڑھتے ہیں
ماجھی : تسی پڑھدے او 
ترمیم شدہ : تسی پڑھنے او

ٹوٹکا نمبر 2:

اٹک میں ایک خاص طریقہ یہ بھی ہے کہ اکثر الفاط بشمول Nouns اور Verbs ہر لفظ جس پر زور دیا جائے اس کے آخری دو حروف میں"پیش" کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔اور الفاظ کو گولائی میں بولا جاتا ہے۔
مثلاً
ماجھی : مَلَک
ترمیم شدہ : مَلُک
م ل ک میں آخری دو حروف کے درمیان پیش لگا دینے سے آواز میں گولائی پیدا ہو گی۔لیکن یہ ٹوٹکا صرف ان الفاظ کے لیے جن کے آخر میں ٹھراؤ ہو۔
ناموں کو آپ اپنی مرضی سے بدل سکتے ہیں ۔۔۔
بدر کو بُدوُر
سرمَد کو سرموُد
احمد کو احمُد
خیر آپ جیسے بھی چاہیں تلفظ کا تیا پانچا کر سکتے ہیں۔۔ہاہاہاہاہا
مزید بہتر بنانے کے لیے گرائیوں ( گاؤں سے تعلق رکھنے والوں) سے رابطہ فرمائیں اور ان کی صحبت اختیار کریں۔


نوٹ:
(تحریر ابھی قابل ترمیم ہے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا)

-------------------------
تحریر
محمد انس مسعود اعوان




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔