بنام ایلیاء

0 comments
در اصل حقیقی حیات ہے اس میں
اسی  طور   نجات   ہے   اس    میں
ہم جو چھلکے ہیں تو ٹکرائیں گے ضرور
غم کی موت ہے وفات ہے اس میں
اب تو شکوہ بھی  رہے  گا    تا  دیر
بڑی با تکلف  ثبات ہے اس  میں
یوں ہی شکوہ  نہیں ہے ایلیاء سے
عشق مذہب کی بدعات ہیں اس میں

(محمد انس اعوان)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔