بچپن میں ہم غالب کے مقلد ہوئے اور کچھ ہی عرصے میں جون ایلیاء کو امام مان کر بوڑھے ہو گئے۔
یہ ایک فقرہ ہی نہیں بلکہ ایک پوری کہانی ہے۔ چلیے آج اپنی آپ بیتی ہی سناتے ہیں۔اس بندہ نا چیز کو بچپن سے ہی شعر و شاعری سے نفرت تھی اور شدید قسم کی نفرت تھی۔لیکن لٹریچر اور کتابوں سے تعلق ہر صورت میں قائم رہا۔پھر نثر کے کنارے پر کھڑے ہو کر شاعری کا جو ذائقہ چکھا تو ہوش ٹھکانے آ گئے اور اسے خوش قسمتی کہیے کہ بد قسمتی کہ ہمارے ہاتھ جو پہلے شاعر لگے وہ تھےاسد اللہ خان غالبؔ۔پھر کیا تھا
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
ایسی نظر دل میں اتری کہ آؤ دیکھا نہ تاؤ غالب کے مقلد ہو بیٹھے۔غالبؔ کی مقلدیت نے دنیا کو دیکھنے کا انداز بدل دیا ہے،مجھ جیسی کمزور سی چیز کو روایت شکن اور حقیقت پسند بنا دیا۔حلانکہ روایت شکن اکثر حقیقت پسند نہیں ہوا کرتے۔پھر پڑھتے پڑھتے ایک روز جون ایلیاء کے چند اشعارنظر سے گزرے تو بے ساختگی ، بے باکی و نئی طرز شاعری نے بہت متاثر کیا۔جون ایلیاء کو پڑھا تو گویا یوں معلوم ہوا کہ جیسے غالب کی ہی کوئی جدید شکل ہے۔
دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جہاں غالب میں "وہ"اور "اس" کا رنگ ملتا وہیں جون میں "میں" اور "اندر" کا رنگ نظر آ تا ہے ۔اسے کچھ اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ غالب اپنی انا کے باعث اپنے آ پ کو پوشیدہ رکھتے جبکے جون اسی انا کو مار کر دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ظاہر کر دیتے ہیں۔یوں اندر اور باہر کا ایک حسین امتزاج تشکیل پاتا ہے جو ہر کسی کو متاثر کرتا ہے اور لوگ بے اختیار اس قبیلہ وحشت میں داخل ہوئے جاتے ہیں ۔میرے بہت سے دوست اسی فتنے کا شکار ہیں۔لیکن کیا کیجے یہ مرض ہی ایسا ہے کہ "سر جائے ہے تو جائے ہے"۔
تحریر











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔