پھر شام کے دھندلکے سائے

0 comments
پھر شام کے دھندلکے سائے
سرد ہواؤں کے درمیاں میں ہوں
اک کتاب
میرے پہلو میں
چند اُڑتے ہوئے خیال
تتلی کی طرح بیٹھ جاتے ہیں
امید کے نکھرے ہوئے پھولوں پر
بوجھل قدموں کی گفتگو سن کر
لاکھ کہنے پہ بھی سمجھ نہیں پاتے
میں جو سوچتا رہتا ہوں
کہہ نہیں پاتا
ڈھنگ سے لکھ  نہیں پاتا
شاید کمی سی ہے مجھ میں
شاید مناسب نہیں لگتا
یہ کہنا کہ میں  کہہ نہیں پاتا
سمجھنے والے سمجھ لیتے ہیں
بات مطلب کی
قصہ مختصر اس شام
قوت گویائی
ختم شُد۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

---------
انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔