پچھلے دو دن سے ناظم مقام وقاص چغتائی صاحب متواتر مسیج فرما رہے تھے کہ 2 عدد کام ہیں تیار رہیے آپ کو کہیں جانا پڑ سکتا ہے۔لیکن ہم بار بار ٹالتے رہے۔ایک روز زرا سختی سے کہا تو ہم جان گئے کہ اب چھٹکاراممکن نہیں ہے چناچہ انہیں جواب دیا کہ "ںاظم صاحب حکم کریں بندہ نظم کا پابند ہے"۔
ناظم صاحب نے فرمایا کہ جناب یہ دو راستے ہیں اس میں سے ایک کو منتخب فرما لیجیے۔دونوں ہی سفر تھے۔اب جو ہم نے ان دونوں راستوں کا موازنہ کیا تو ان میں سے ایک مجھے "پھانسی" اور دوسرا "عمر قید " محسوس ہو رہا تھا۔چناچہ ہم نے "عمر قید "کو "پھانسی" پر ترجیع دی اور حامی بھر لی۔
اب صورت حال یہ تھی کہ مقام کی موٹر سائیکل پر جانا تھا جبکہ اس موٹر سائیکل کے حوالے سے میری ناقص رائے کچھ یوں ہے کہ محترمہ گرم طبعیت کی مالک ہیں،زرا سی اونچائی دیکھ کر بلبلانے لگتی ہیں ،سوائے ناظم مقام کے کسی اور کی موجودگی کو برداشت نہیں کرتیں۔ اور ضدی اتنی کہ جہاں دل کرے بیچ سڑک کے احتجاج ریکارڈ کروانے بیٹھ جاتیں ہیں۔
ہم بھی کوئی اتنے مشاق ڈرائیور نہیں ہیں ہمیشہ یہی کہہ کر بائک کی پچھلی سیٹ پر قبضہ کر لیتے ہیں کہ ہمیں صحیح چلانی نہیں آتی ،لیکن اب کی بار صورت حال کچھ یوں تھی کہ جو بھائی میرے ہمراہ تھے وہ سرے سے ہی بائک چلانا نہیں جانتے تھے۔چناچہ یہ بھاری ذمہ داری مجھ جیسے غیر ذمہ دار کے سر تھی۔
![]() |
| گلی جاگیر کے قریب ایک پہاڑی |
مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ نے اٹک سے فتح جنگ جانا ہے جس کا کُل فاصلہ قریباً40 کلومیٹر بنتا ہے۔اللہ کا نام لے کر بغیر دستانے پہنےاٹک سے روانہ ہوئے۔رستے میں ٹرکوں کے پیچھے کندہ و تحریر شدہ اشعار سفر کا مزہ دوبالا کر دیتے ہیں لیکن ایک بار تو شعر پڑھ کر میں اس کی شان نزولی کے تصور میں اس قدر گم ہوا ہے کہ اگر پیچھے بیٹھے ہوئے منیر بھائی اشارہ نہ کرتے تو میں یہ تحریر نہ لکھ پاتا بلکہ جمعیت کے شہداء میں ایک اور کا اضافہ ہو جاتا،ہماری یاد میں محافل منعقد کی جارہی ہوتیں اور نئے کارکنان کو ہماری مثالیں پش کی جاتیں کہ آپ کے ساتھی فرض کی ادائیگی میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پہاڑوں میں رگڑیں کھاتے ہوئے شہید ہوگئے ۔لیکن ہماری بروقت کاروائی نے ہمیں کھائی میں جانے سے بچا لیا۔
درمیان میں ملٹری ایریا سوری !!! "اسٹبلش منٹ ایریا" آتا ہے جہاں تصویر بنانا اور اسلحہ لے جانا سخت منع ہے،چیک پوسٹ پر ہمارا شناختی کارڈ چیک کیا جا رہا تو ہم دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ بیٹا فیس بک پر تو بڑا مفکر بنا پھرتا ہے اور اب کیسے بندے کے پتر کی طرح ،بڑی فرمان برداری سے اپنی شناخت کی تصدیق کروا رہے ہو۔
فتح جنگ پہنچ کر ہم پر یہ انکشاف کیا گیا کہ اس سے آگے "کھوڑ کمپنی " جانا ہے جو فتح جنگ سے بھی 40 کلومیڑآگے ہے تو ہمارے ہاتھ کے ہی نہیں بلکہ موٹر سائیکل کے بھی طوطے اُڑ گئے۔
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
ڈھلتی شام کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں بھی شدید اضافہ ہو رہا تھا،لیکن اس سردی و بے سروسامانی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم دوبارہ سفر پر روانہ ہو گئے۔اس وقت ہماری صورت حال پنجرے میں بند ایک مجبور و بے کس طوطے کی سی تھی،جسے زبردستی "میاں مٹھو موٹر سائیکل چلانی ہے؟" بولنے پر مجبور کیا جا رہا ہوں۔شاعر کو معذرت کے ساتھ
دشت تو دشت ہیں صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
اٹک کی وادیوں میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
اللہ اللہ کر کے ہم جامعہ مسجد و درسہ عمر فاروق پہنچے،اس مسجد کا افتتاح قاضی حسین احمد کے دست مبارک سے ہوا تھا۔ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت مسجد ہے۔
![]() |
| مسجد عمر |
![]() |
| مسجد عمر کا اندرونی منظر |
امام مسجد نے استقبال کیا اور ہمیں مسجد سے متصل جماعت اسلامی کے خوبصورت دفتر میں بٹھا دیا۔کچھ ہی دیر میں مغرب کی نماز ادا کی۔ اور کھوڑ کےاراکین جماعت کے درس قرآن میں شرکت کی جس کے بعد ہمیں کھل کر جماعت کے اراکین سے گفتگو کا موقعہ ملا۔
دسترخوان لگایا گیا۔مجھے آنہایت ہی خوشگرار احساس نے آن گھیرا جب سب اراکین اپنے اپنے گھروں سے لایا ہوا کھانا دسترخوان پہ رکھ دیا۔یہ وہ خوبصورت اور منفرد روایت ہے جو اب شازونادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔سب اراکین کی آپس میں محبت اور اخلاص دیدنی تھا۔کھانے کے درمیان امام ابو حنیفہ (رح) اور امام یوسف(رح) کے دلچسپ واقعات سننے کو ملے۔
کھانے کے بعد جب ہم نے اجازت چاہی تو جماعت کے ایک بزرگ رکن حسین صاحب نے ہمیں روک لیا اور جانے نہ دیا۔وہیں پر ہمارے بستر لگا دیے گئے۔عشاء کی نماز کے بعد مدرسے کے بچے ہمارے کمرے میں آن وارد ہوئے۔ان سے خوب گپ شپ رہی۔تمام بچوں سے حمد،نعت،اشعار اور تقاریر سنیں،سب بچوں کی حوصلہ افزائی کی،اسی دوران منیر بھائی نے "انسانی زندگی میں مقصدیت" کے عنوان پر اپنے مخصوص دھیمے اور علمی انداز میں درس دیا۔
مدرسے کے دو بچے نہایت شرارتی تھے ان دونوں بھائیوں کا تعلق حقیقی طور پہ تو چکوال سے تھا لیکن طبعیت کے اعتبار سے فیصل آبادی لگتے تھے۔
رات کو اساتزہ کی جگہ بیٹھ کر اپنا شوق استادی بھی خوب پورا کیا۔
![]() |
| شوق استادی کو پورا کرتے ہوئے |
صبح نماز فجر سے لیے منیر بھائی نے ہی اُٹھایا کیونکہ ہم سوتے ہی تب ہیں جب فجر کی آزان کو بس 40 منٹ رہ چکے ہوتے ہیں۔نماز کے بعد جب واپسی کے لیے اجازت چاہی تو وہی رکن جماعت حسین صاحب نے کہا کہ آپ بس میرا 10 منٹ انتظار فرامائیں میں ابھی آتا ہوں ۔ہم بیٹھ گئے کچھ ہی دیر میں وہ ناشتے کا سامان لیے ہمارے سامنے تھے ۔حلانکہ وہ نماز پڑھنے کے لیے بہت دور سے مسجد میں آتے ہیں لیکن ہمارے لیے وہ اس بڑھاپے میں دوبارہ اپنے گھر گئے اور وہاں سے ہمارے لیے ناشتہ تیار کر کے لائے۔ناشتے مین ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ
"انس میاں آج جس مقام پر تم کھڑے ہو اور جس محبت سے تمہاری خاطر تواضع کی جارہی ہے تم اس کے حقدارنہیں یہ صرف اور صرف اسلامی جمعیت طلبہ کا ہی کرشمہ ہے کہ اپنے گھر سے کئی سو کلومیٹر کی دوری ،اجنبیت اور کسی قسم کے بھی تعلق کے نہ ہونے کے باوجود بھی زراسی بھی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ہمارا آپس کا رشتہ اقامت دین کی وہ کوشش ہے جو امام العصرسید ابوالاعلی مودودی(رح) کی فکر انگیز تحریروں اور ہمہ جہت تنظیموں بدولت ہم تک پہنچی ہے۔
واپسی پر پھر سے ہم آگے اور منیر بھائی ہمیشہ کی طرح پیچھے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔سردی کے مارے ہاتھ کام کرنا چھوڑ گئے تھے چناچہ موٹر سائیکل روک کر انجن کے ساتھ ہاتھ گرم کیے گئے۔اللہ اللہ کرکے قریباً90 کلومیٹر کا سفر طے کر کے اٹک پہنچے تو تھکن کا زرا بھی احساس نہ تھا۔کھوڑ کے اراکین جماعت اسلامی کی گرمجوشی بار بار یاد آرہی تھی۔
اللہ تحریک اسلامی کے کارکنان کی باہمی خلوص و محبت میں اضافہ فرمائے اور ہماری کوششوں کو قبول فرمائے۔
آمین
تحریر:
محمد انس اعوان
Twitter: @AnasHizbi















ما شا اللہ ۔ انس بھائی
اللہ کرے زور " کی بورڈ " ا ور زیادہ