میں کس منہ سے نئے سال کی مبارک دوں۔آج بیٹھ کر اپنا حساب لگا رہاہوں۔کتنی ہی نمازیں ہیں جو میں ادا نہ کر سکا۔کتنے ہی گناہ ہیں جو مجھ سے اس سال ہو گئے۔یہ تو وہ گناہ تھے جو میرے حافظے میں رہ گئے۔ناجانے کتنے ہی ایسے گناہ ہیں جو مجھ سے سر زد ہوئے لیکن مجھے یاد نہیں۔ایک انسان،ایک بیٹے ،ایک شاگرد،ایک طالب علم ،ایک پاکستانی اور سب سے بڑھ کر ایک مسلمان کی حیثیت میں کتنے ہی فرائض تھے جو میں پورے نہ کر سکا۔ان بارہ مہینوں میں اپنے والدین سے کیے گئے ناجانے کتنے وعدے تھے جو میں وفا نہ کر سکا۔کتنے ہی لوگوں کے دلوں کو میں نے تکلیف پہنچائی اور کتنے ہی لوگ میری وجہ سے مصیبت کا شکار ہوئے۔وہ کتنے ہی لمحات تھے جو صرف میری وجہ سے اوروں کے لیے اذیت کا باعث بن گئے۔اور کچھ سخت الفاظ کی تاسیر نےعجیب و غریب فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا۔
خیر مزہ تو تب ہے کہ جب موبائل میں موجود سال کے ہندسے تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل والے میں بھی تبدیلی آئے۔اندر کی دنیا اور باہر کی دنیا دونوں ایک ساتھ بہتری کی جانب آئیں تاکہ بشرط زندگی اگلے سال اس سال کی نسبت افسوس کرنے کو بہت کم چیزیں رہ جائیں۔
خیر مزہ تو تب ہے کہ جب موبائل میں موجود سال کے ہندسے تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل والے میں بھی تبدیلی آئے۔اندر کی دنیا اور باہر کی دنیا دونوں ایک ساتھ بہتری کی جانب آئیں تاکہ بشرط زندگی اگلے سال اس سال کی نسبت افسوس کرنے کو بہت کم چیزیں رہ جائیں۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔