تنگ گلیوں کے مکین

0 comments
بیچ شہر تاریک ، باس زدہ اور تنگ گلیوں کے دونوں جانب مکانات کا ایک سلسہ دور تک تا حد نظر ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے کھڑا ہے۔ان ضعیف مکانوں کی عمر انکے مکینوں سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن انکے مکینوں کے باہم رشتے ان مکانات کی ہی طرح مضبوط اور دیر پا ہیں۔جیسے ہی سر اوپر کی جانب اُٹھائیں ،مکان کے اوپری سِرے آپس میں ملتے نظر آ تے ہیں اور یوں گماں ہوتے ہے جیسے ابھی ہم پر آ گریں گے۔زرا دیہاتی پس منظر ہونے کے باعث ایسی جگہ دل میں گھٹن سی محسوس ہوتی ہے اور جلد از جلد یہاں سے نکلنے کو من چاپتا ہے۔لیکن کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ یہں بیٹھ کر پہروں اس زندگی کا معائینہ کیا جائے۔کوئی آرہا ہے،کوئی جا رہا ہے،کوئی فکر مندی کے آثار لیے اور کوئی پُر معنی  مسکراہٹ لیے پاس سے گزر جاتا ہے۔گھروں کے باہر بنی ہوئی تجاوزات جنہیں عرف عام میں "تھڑا" کہا جاتا ہے بچوں اور بوڑھوں سے پُر نظر آ تے ہیں۔ کوئی بھی مذہبی، سیاسی یا ملکی موقع ہو یہ ایک دوسرے کے ہمقدم اسے بلکل ایک رسم کی طرح ادا کرتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ کر مناتے ہیں۔ لڑائیاں ،جھگڑے ،شادی بیاہ سب کچھ ایک ساتھ مل جل کر کیا جاتا ہے۔یہ تنگ گلیوں کے لوگ بلا شبہہ بڑے بڑے مکانات و محلات کے مکینوں سے زیادہ خوش ،مطمعین اور شاد رہتے ہیں۔
تحریر
ملک انس اعوان


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔