آج سے کچھ عرصے پہلے منظر
عام پر ایک وڈیو آتی ہے جس میں چند نا معلوم افراد ایک خاتون کو زمین پر لٹا کر
کوڑے رسید کر رہے ہوتے ہیں اس کے بعد پورا پاکستانی میڈیا اس کو بنیاد بنا کر ایک
طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیتا ہے ایک گلی
کے باہر کھڑے چند افراد سے لے کر پارلیمینٹ میں بیٹھے ہوئے نمائیندگان اس چیز کو زیر بحث لاتے ہیں اور ہر زبان شعلے
اگلنے لگتی ہے۔اس واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے امراء اور قائدین کو آن لائن
لے کر اس واقعے پر انکی رائے طلب کی جاتی ہے۔کئی جگہ انسانی حقوق کی علم بردار
خواتین اپنے بچوں کو آیا کے حوالے کر کے
ہاتھ میں حقوق نسواں کے بینر پکڑے سڑکوں پر احتجاج کرتی نظر آتی ہیں ۔دیکھا دیکھی
پوری قوم شتر بے مہار کی طرح میڈیا کے بے
لگام گھوڑے پر سوار ہو کر غیر ارادی طور پر شعائر اسلام کی سر عام تضحیک کرنے لگتی ہے،پوری دنیا کا میڈیا پاکستانی
میڈیا کی رپورٹس کو دنیا کے سامنے پیش
کرتا ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کی عزت خاک میں ملا دی جاتی ہے ۔ خیر چند سال
کے عرصے کے بعد اس ویڈیو کے حوالے سے
فیصلہ سامنے آتا ہے کہ وہ تو جعلی تھی ،مگر کوئی معذرت کرنے آگے نہیں
بڑھتا نہ ہی وہ میڈیا چینل جو دن رات "سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ "
کرنے میں مگن رہتے ہیں اس حوالے سے قوم سے معافی مانگتے ہیں بلکہ اس کی نشریاتی معمول کے مطابق چلتی رہتی
ہیں۔ یہ اوپر کا سارا واقعہ محض ایک واقعہ ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا ایک امتحان
تھا، ایک ایسا امتحان کہ جس میں یہ جانچا جائے کہ ایک اوسط پاکستانی کی سوچ کا معیار کیا ہے ،وہ چیزوں کو کس طرح سے
دیکھتا ہے اور کس طرح سے رد عمل دیتا ہے۔اس واقعے نے روز روشن کی طرح ایک بات واضح
کر دی کہ پاکستانی قوم صرف وہی دیکھتی ہے جو اسے دکھایا جاتا ہے ،وہی سنتی ہے جو
اسے سنایا جاتا ہے ،اور وہ ہی بولتی ہے جس
کے بولنے کا اسے حکم دیا ہے ۔ اور انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس
قوم کی اس ذہنی کیفیت کا ذمہ دار صرف اور صرف
میڈیا ہے۔ صحافت کے نام پر قوم کی جس انداز میں ذہن سازی کی جارہی ہے
وہ ناقابل معافی بھی ہے اور ناقابل تلافی
ہے۔ پرانے وقتوں میں گاؤں اور پسماندہ علاقہ جات میں چند جادوگر نما افراد آتے اور
اپنے جادوئی کر تب دکھا کر پورے کے پورے
گاؤں سے رقم بٹورتے اور اگلی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے مگر آپ حیران ہوں گے کہ
ایسا آج کے دور میں بھی ہوتا ہے مگر اب ان کا انداز بدل گیا ہے اب ان کے پاس کرتب
کھانے کے لئے ایک جادوئی ڈبہ ہے جس میں سے وہ اپنی من چاہی کوئی بھی شکل
نکال حاضرین کو ڈرا اور ہنسا سکتے ہیں
۔آزادی صحافت کے نام پر اس قوم کے ساتھ کیا کیا کچھ نہیں کیا گیا یہ تو محض ایک ویڈیو
کا معاملہ تھا ناجانے کتنی ہی ایسی
کہانیاں ہوں گی جو اب تک ہماری آنکھ سے اوجھل ہیں اور ناجانے کتنے ہی حقائق ہیں جو
اس رنگین پردے کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ جن کالم
نگاروں اور قلم کاروں نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے وہ سبھی اس میں برابر کے
قصور وارہیں
۔
مجھے اس سارے واقعے پر تجزیہ پیش کرنے کے بعد بڑی شدت سے اس چیز کا
احساس ہو رہا ہے کہ آخر یہ میڈیا چاہتا کیا ہے ۔۔۔۔؟ اسی پاکستان میں ایک
ملک کی جانب سے ڈروں حملوں کے ذریعے پاکستانی شہریوں کو خاک اور خون میں تبدیل کر
دیا جاتا ہے اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں مگر کوئی چینل ان لاشوں کو کوریج نہیں دیتا اور نہ ان کے لواحقین کو چینل کے
دفتر بلا کر انکی رائے طلب کی گئی۔ اگر
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک جزوی قوم ہیں جو فقط جذئیات کو پرکھتی اور اس پر یقین رکھتی ہے ،جبکہ کُل
سے دور بھاگتی ہے کیونکہ ہم سوچنا نہیں چاہتے
اور اس آدھے سچ کو سننا نہیں چاہتے جو پورے جھوٹ کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔