رشتے پرندے

0 comments

رشتے بھی کسی حد تک پرندوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، انکو اول تو پالیے نہیں، اگر پالیے تو خوب دیہان سے پالیے. اور جب پر نکل آئیں تو مزید قید میں مت رکھیے. کیونکہ ایسا کرنے سے یا تو وہ پنجرے کو اپنی دنیا سمجھنے لگے گا یا پنجرے سے سر پھوڑنے کی کوشش کرے گا. اس کے پَر کبھی مت کاٹیے.... ورنہ وہ بظاہر زندہ پرند اڑنے کی چاہ میں اندر سے مر جائے گا. جو اڑنا چاہے اسے اڑا دیجئے، جو لوٹ آئے اسے پناہ دیجیے لیکن............ پنجرہ توڑ دیجئیے . آپ کو بس اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ آپ کے لیے اور آپ کے بعد والوں کے لیے قدرت اپنے حقیقی رنگ میں نکھر سکے.
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔