اگر آپ اٹک کے باہر کسی اور ضلع سے تعلق رکھتے ہیں تو کچھ عرصہ اٹک شہر میں ریہائش رکھنے کے بعد آپ یہ بخوبی جان پائیں گے کہ یہاں کے سب سے زیادہ نخرے والا طبقہ "حجام" ہیں، حیرت تو ہوئی ہو گی!
ہونی بھی چاہیے کیونکہ بات ہی کچھ ایسی ہے، دراصل راولپنڈی کے قریب ہونے کی وجہ سے "پنڈی بوائز" کا ایک
مخصوص انداز کسی حد تک یہاں کے نوجوانوں میں بھی پایا جاتا ہے. لہذا عموماً شہری علاقوں میں نوک دار اور غیر معمولی داڑھی کے خط اور بالوں کے انداز زیادہ دیکھنے کو ملیں گے. اول تو آپ کو حجام سے فون پہ وقت لینا پڑے گا اور ایک اچھے بچے کی طرح عین وقت پر کرسی تک پہنچنا بھی ہو گا ورنہ آپ کے حصے کا وقت صدر مملکت کسی اور کے لیے وقف کر چکے ہوں گے، کھانا کھانے کے وقت یا انتہائی اوقات میں اگر آپ کسی مجبوری سے بھی چلے جائیں تو بڑا پکا سا منہ بنا کر انکار سننا پڑے گا. اور تو اور اگر آپ ہماری طرح وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہوئے تو آپ کو اندر ہی اندر میری طرح جلنا بھننا بھی ہو گا کہ" واہ ملک صاحب بستی جئی نہیں ہو گئی؟ "کیونکہ کم از کم ہماری اپنی صورتحال یہ ہے کہ ایک تو ہم پہلے ہی ماشاءاللہ سادہ سے ہیں اور اگر نائی کی دوکان پر چلے بھی جائیں تو کم از کم اپنے علاقے میں ٹھیک ٹھاک پروٹوکول وصول کرنے کی عادت رکھتے ہیں، یا جاتے ہی ان کے پاس ہیں جو ہمیں جانتے ہوں. ہمارے ہاں تو اگر وہ الله کے بندے کھانا بھی کھا رہے ہوں تو گاہک کو دیکھتے ہی کھانا چھوڑ دیتے ہیں. جبکہ اٹک میں جب تک نائی محترم بذات خود تمام اہم امور نمٹا نہ لیں تب تک گاہک کی جانب دیکھتے بھی نہیں اور جیب کی کھال بھی ثواب سمجھ کر اتارتے ہیں.
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔