سیاہ اندھیرے کا راج تھا ،ننھیالی ڈیرے پہ آم کے قدیم اور بلند سایہ دار درخت کے عین سامنے چند چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں . جن پہ ایک وین ڈرائیور اور اس کا ساتھی کھانا کھا رہے تھے جبکہ مجھ سمیت میرے چند دیگر رشتہ دار بھی وہیں چار پائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے. کھانا کھانے کے بعد انہوں نے برتن اوپر تلے ترتیب سے رکھتے ہوئے اجازت چاہی تو ماموں جان نے انسے مہمانوں کو دوسرے شہر سے گھر پہنچانے کا معاوضہ پوچھا تو ان میں سے ایک جو قدرے بڑی جسامت کا تھا کہنے لگا کہ "جنے دل کرے دے چھڈو ، متھہ تے بندیاں نال لگدا ایے، پیسیاں دی کیڑھی گل ایے؟"
اس کے بعد کیا مکالمہ ہوا مجھے یاد نہیں لیکن ایک جملہ کہ" واسطہ تو انسانوں سے پڑتا ہے " نے حیرت میں مبتلا کر دیا. ایک ان پڑھ اور گاؤں کے معمولی سے ڈرائیور کی بات نے دل میں گھر کر لیا. گھر کیوں نہ کرتی جس خوبصورت انداز سے اس نے انسان کو پیسے سے الگ کیا وہ لاجواب تھا. بھلے ہی اس نے یہ بات مروت میں ہی کہی ہو مگر وزن میں بھاری تھی. میرا انتہائی قلیل مشاہدہ بتاتا ہے کہ دفتروں میں موجود سپاٹ چہروں کے حامل وہ" ہندسے" جو ہندسوں میں اضافہ کمی کرتے کرتے صبح کو شام اور شام کو صبح کرتے رہتے ہیں، انسان کو ایک ID نمبر سے پہچانتے ہیں، انہی ہندسوں میں معاملات طے کرتے ہیں، انہی ہندسوں سے انسان کی قیمت طے کرتے ہیں واقعی انسان نہیں ہیں کیونکہ انکا" متھہ بندیاں نال نہیں لگدا، پیسیاں نال لگدا ایے ".
غرور، تکبر، اکڑی گردن، قہر آلود نگاہیں اور حقارت بھرا رویہ رکھنے والے احساسات کی چاشنی سے عاری دفتری ملازم یعنی " ہندسے "جنہیں ہمیں باامر مجبوری" انسان "قرار دینا پڑتا ہے، ایک ایسی سوچ کا شکار ہوتے ہیں جو اپنے اندر موجود احساس کمتری کا ازالہ دوسرے کے احساس کو کچل کر کرتے ہیں. انا کا ایک طوفان ان کے رگ و پے میں بہتا ہوا دل کے کونے کونے میں سے احساس کو کھرچ ڈالتا ہے. حیرت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ہندسوں میں کیسے تول لیتے ہیں، مجھے بھی اس مقام حیرت سے گزرنا ہے کیونکہ شاید سلسلہ تعلیم کے بعد مجھے بھی گزرے موسم کے کپڑوں کی طرح احساسات و جذبات کی کنڈلی کو پرانی آہنی پیٹی میں رکھ کر ایک ہندسہ بن کر ساری زندگی ہندسوں کا طواف کرنا ہے.....!
تحریر
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
ہندسوں کا طواف
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
اس تحریر کو
انس نامہ,
تحریر,
روز نامچہ,
زندگی,
فلسفہ,
گاؤں,
CIIT ATTOCK,
COMSATS ATTOCK,
Malik Anas Awan
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔