لوگ آسان سمجھتے ہیں دراز قد ہونا

0 comments

الله نے 6 فٹ سے کچھ زیادہ قد عطا کیا ہے اور الحمداللہ صحت بھی ٹھیک ٹھاک دی ہے، اس لیے جب بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا موقع ملتا ہے ہماری نظر ایسی جگہ پہ ہوتی ہے جہاں ہم اپنی طویل ٹانگوں کو سمیٹ کر بیٹھ سکیں وگرنہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر گاڑی کا رخ مشرق کی جانب ہو تو ہمیں اپنی ٹانگیں شمالاً جنوباً رکھنی پڑتی ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی اور صحت مند فرد نے ساتھ بیٹھنا ہو تو سینے کو بھی شمالاً جنوباً رکھ کر حسب عادت تانک جھانک کے لیے گردن کو بطرف کھڑکی شریف رکھنے کے لیے انتہائی شمال یا انتہائی جنوب موڑنا پڑتا ہے. چناچہ عسکری اصطلاح میں ہم ایک دلچسپ "اسٹریٹیجک پوزیشن" اختیار کر چکے ہوتے ہیں.
یوں مناظر کی لطافت گردن کی جڑوں میں بیٹھ جاتی ہے اور محض گھنٹے بھر کے سفر میں طبعیت ٹھکانے لگ جاتی ہے. اس کے علاوہ اگر پیچھے یا آگے  خواتین بھی بیٹھی ہوں تو خدا کی پناہ، دوران سفر کھانے بنانے کے طریقوں سے لے کر کس کس کا رشتہ کہاں کہاں نہیں ہو پایا، اس کی وجوہات کیا تھیں، اور اس کے معاشرے پہ کیا اثرات وقوع پذیر ہوں گے، جیسے گھمبیر مسائل تک بلا معاوضہ سننے کو ملتے ہیں. جس سے سفر میں دیکھے جانے والے مناظر کے نوٹس منتشر ہو جاتے ہیں اور انکو موبائل فون میں محفوظ نہیں کر پاتا اور نتیجتاً ایسی تحریریں جنم لیتی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا.
رہے نام اللہ کا......
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔