عوام میں یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ اہلیان داڑھی شریف کے دل اور زہن رومانویت اور ادب سے خالی اور نا واقف ہوتے ہیں، جو کہ بالکل غلط تاثر ہے. آپ انکے پاس بیٹھ کر تو دیکھیے..... خاکسار نے ایک معزز عالم دین کی زبانی منبر پہ غالب کی تعریف سنی ہے، اس میں بات ساری ظرف اور ذوق کی ہے، اسی طرح ہم بذات خود ایسے آئمہ مساجد کو جانتے ہیں جن کے پاس ذاتی بیٹھک کا زیادہ تر حصہ شعر و شاعری پہ مشتمل ہوتا ہے.
سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان کے ہاں احساسات کو حدود کے اندر اس طرح قید کیا جاتا ہے کہ گٹھن کی بجائے لطف پیدا ہونے لگتا ہے، سننے اور سنانے والے یہ بات جانتے ہی ہیں کہ "کہہ دینے" میں کوئی کمال نہیں ہوتا ہے بلکہ کمال "نہ کہہ" کر بھی کہہ دینے میں ہوتا ہے.
پچھلے دنوں ہی ایک مولانا صاحب نے اپنی لکھی ہوئی غزل سنائی تو سن لینے کے بعد تبصرے کے لیے میری جانب دیکھنے لگے تو میں نے لمبی سانس بھر کر محض اتنا ہی کہا کہ
آپ سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہتے ہیں جو جون ایلیاء نے کہا تھاکہ
"جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے "
اتنا سننا تھا کہ بے اختیار ہنسنے لگے اور کافی دیر ہنستے رہے اور کہنے لگے اٹھ شیطان بھاگ یہاں سے ....!
پاکستان کے مشہور ارادے سے درس نظامی کے آخری سال کے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں ذکر چل پڑا تو انہوں نے اپنا کلام سنانے کی خواہش کا اظہار کیا، پاس ہی چند اور طلبا بھی بیٹھ گئے، مولانا نے نظم سنانا شروع کی.. جس میں وہ حور کو مرحلہ وار عرش سے فرش پر لا رہے ہیں، شاعری واقعی خوب تھی سماں بندھ گیا، اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ مذکورہ "حور" محترمہ بس اب کے زمینِ انسان پہ قدم رکھنے ہی والی تھیں کہ مولانا نے اگلے ہی مصرعے میں موصوفہ کو دوبارہ جنت پہنچا دیا.
پیچھے بیٹھے ہوئے ایک طالب علم جو کافی انہماک سے سن رہے تھے، جھنجھلا کر ، منہ بنا کر بولے
"مولانا اگر واپس ہی بھیجنا تھا تو اتنا تکلف کیوں کیا؟"
انکی بات سن کر انکے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے طالب علم نے انکا کندھا تھپتپایا اور سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے کہ
"حافظ تجھے ایک کی پڑی ہے میں نے تو 70 حوروں کی فیملی پلاننگ کر رکھی ہے "
یہ سننا تھا کہ ضبط کے بندھ ٹوٹ گئے اور سب اتنا ہنسے کہ باہر سے انکے استاد محترم کو خیریت معلوم کرنے آنا پڑا.
باقی ہم جیسے تو اہل جبہ و دستار کے ہاں کچھ معاملات میں قدرے" لبرل "تصور کیے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے عام افراد ہمیں مذہبی تصور کرتے ہیں :) ، اس طرح دونوں جانب اپنی گنجائش خودبخود نکل آتی ہے. اور ہم دونوں جانب سے مستفید ہو پاتے ہیں.
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
ہم درمیان والے
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
اس تحریر کو
ادب,
انس نامہ,
تحریر,
مزاحیہ تحریر,
مولوی,
Malik Anas Awan
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔