جمال حسنِ عمل ہے
جمال حسنِ بیاں ہے
جمال ابر کی صورت
جمال آبِ رواں ہے
جمال موج تبسم
جمال اشک رواں ہے
جمال شوقِ طلب ہے
جمال ذوقِ زیاں ہے
جمال گوشہِ موجود
جمال محض گماں ہے
جمال نعرہ مستی
جمال طرز فغاں ہے
جمال حکمتِ منبر
جمال حکمِ ازاں ہے
جمال سجدہ ساجد
جمال وصفِ نہاں ہے
جمال چشمِ مصور
جمال اور کہاں ہے؟
ملک انس اعوان
نوٹ :اس کا تعلق وحدت الوجود یا شہود سے نہیں ہے بلکہ محض جمالیاتی حسن کی نشاندہی ہے.










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔