الو شریف

0 comments

آپ کی طبعیت آپکی پسند پہ بہت اثر ڈالتی ہے اس لیے اکثر و بیشتر آپکو وہی چیزیں زیادہ متاثر کرتی ہیں جو آپ کی طبعیت سے بہت مطابقت رکھتی ہوں، یا بہت مخالفت ، عموماً انسان کے لیے یہ دو انتہائیں ہی خاص ہوتی ہیں اس کے درمیان سب کچھ معمولی تصور کیا جاتا ہے. رہی بات "الو" کی تو اس کی پسندیدگی کی کئی وجوہات ہیں.
اس کی شخصیت جو کہ بڑی گردن، سر اور آنکھوں کی وجہ سے نہایت پر وقار بن جاتی ہے،ایک بڑا الو اگر نظر بھر کر دیکھ لے تو پورے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے. اسی باعث لوگ اس سے ڈرتے بھی ہیں اور اس سے قصے بھی منسوب کرتے ہے . اگر اس کی ظاہری شکل میں صرف آنکھوں پہ ہی لکھا جائے تو کتاب بن جائے.
اور اس کے "پر" پوچھیے ہی مت بالکل ترتیب سے جڑے ہوئے، سلیقے سے بندھے ہوئے ایسے کہ پرواز کی آواز تک پیدا نہیں ہونے دیتے. اس قدر سلیقے سے پرواز کہ زمین کی سطح کے چند انچ اوپر اڑے تو زمین پر پڑے خشک پتوں کو بھی خبر نہ ہونے دے.
عقاب یا باز کی طرح بھی ایک شکاری جانور ہی ہے. اس کی فطرت بھی وہی ہے جو عقاب کی ہی ہوتی ہے البتہ حکمت عملی مختلف ہوتی ہے.
زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرتا اور شکار کے لیے سورج کی روشنی کا محتاج بھی نہیں ہوتا، تسلی کے ساتھ رات ہونے کا انتظار کرتا ہے، گھات لگا کر بیٹھتا ہے، پرسکون پرواز کرتا ہے، اور خبر ہونے سے پہلے پہلے شکار کی گردن ادھیڑ  چکا ہوتا ہے.
عموماً دنیا کے ہر کونے میں مختلف شکلوں اور رنگوں میں پایا جاتا ہے. برفیلی چوٹیوں سے صحراؤں تک اس کا دائرہ محیط ہے.
_________________
آپ نے سن رکھا ہو گا کہ "محنت اس قدر خاموشی سے کرو کہ آپکی کامیابی شور مچا دے" تو اس کی عملی تفسیر الو ہی ہے کیونکہ جب یہ شکار پہ نکلتا ہے تو جو واحد آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہے وہ اس کے پنجوں میں جکڑے ہوئے دم توڑتے ہوئے، اس کا نشانہ بننے والے کی ہوتی ہے.....!
رہی بات اس کی طمانیت کی تو وہ اپنی مثال آپ ہے.
دن کا بے ضرر سا پرندہ رات کو جلاد بن جاتا ہے. کیونکہ اس کے دن کا امن اس کی رات کی تیاری ہوتی ہے.💗💗
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔