کئی روز ہوئے

0 comments

کئی روز ہوئے
سامنا نہیں ہوا
افق پہ ڈوبتے کے سورج کے ہمراہی
سیاہ سفید اور زرد بادل
پوچھتے ہوں گے
کہاں گیا ہے وہ شخص
افق پہ پھوٹنے والے
رنگ جس کو سبھی تو بھاتے تھے
ہوا کے ساز جس کو سمجھ میں آتے تھے
آزاد جس کی فقط لے تھی
قافیہ ردیف جس سے نہ بننے پاتے تھے
وہی ضعیف روح
جواں جسم لیے
ہر شام تجسس ایجاد کرتی تھی
سنا ہے دشت طلب میں
ابر نے مار ڈالا ہے
رنگِ خیال، گماں ، امید، سکوں 
نچوڑ ڈالا ہے

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔