ہم بھی عجیب لوگ ہیں. عجیب اس طرح سے کہ جب مصروفیت میں کھو جاتے ہیں تو اپنا آپ بھلا بیٹھتے ہیں اور پھر جب اندر کا خالی پن وجود سے باہر آنے لگتا ہے تو کسی اندھے کی طرح اپنی چھڑی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں. گرتے پڑتے، رینگتے، گھسٹتے خود کی تلاش میں نکل جاتے ہیں. دور دور تک جاتے ہیں، طرح طرح کے طریقے آزماتے ہیں. اپنے وجود کے محل کے تالے توڑنے لگتے ہیں. ایک دروازے کے بعد دوسرا اور اس طرح ان گنت دروازوں کے تالے توڑتے ہوئے ہم بالآخر اپنے آپ تک پہنچ جاتے ہیں. ہم کیا دیکھتے ہیں......؟
ایک چھوٹا سا بچہ جو "نفس" کی آغوش میں پڑا سو رہا ہوتا ہے. ہم جیسے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں،نفس اپنی گود میں پڑے ہوئے بچے کو جگا دیتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ دیکھو یہ کون آیا ہے؟
وہ ضدی غصیل بچہ آنکھیں کھولتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور روتے ہوئے نفس سے لپٹ جاتا ہے.
ہم اس نفس سے بچے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، روتے ہیں، فریاد کرتے ہیں اس کے پاؤں پکڑتے ہیں، مگر سب بے سود....... ہمارا اپنا اندر والا حصہ ہمیں ماننے اور جاننے سے انکار کر دیتا ہے، اس مقام پہ اذیت اپنی حد کو چھونے لگتی ہے، رونا چاہتے ہیں لیکن رو نہیں پاتے ہیں، گڑگڑانا چاہتے ہیں لیکن گڑگڑا نہیں پاتے ہیں، ایسے جیسے شریانوں میں موجود لہو، شریانوں سے الجھنے لگ جائے.
سب تدبیریں ناکام رہتی ہیں تو قوت والے لوگ آگے بڑھ کر بچے کو چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر نفس کے ہاتھوں زخمی ہو کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں. سب رستوں کو کھلا چھوڑتے ہوئے، جس میں سے دیگر لوگ بھی آپکی ذات کے محل میں جھانکنے لگتے ہیں.
جبکہ کچھ اچھے لوگ احتیاط کرتے ہیں، دوبارہ حاضری کے لیے اٹھتے ہیں، ایک ایک دروازے کو بند کرتے ہوئے باہر آ جاتے ہیں. اپنے رب سے مدد مانگتے ہیں اس کی نصرت طلب کرتے ہیں اور دوبارہ اپنی ذات کے محل میں جاتے ہیں، بار بار جاتے ہیں، اتنی بار جاتے ہیں کہ وہ بچہ آپ سے مانوس ہونے لگتا ہے اور نفس کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ کی ذات، آپ کا اپنا آپ، آپ کا وجود، آپ کو حاصل ہو جاتا ہے. نفس کو وہیں کہیں بند رہنے دیجیے اور سب تالے لگا دیجیے اور بچے کو اپنے ساتھ باہر لے آئیے.
اس بچے کو نفس سے ہمیشہ دور رکھیے، اس کے ساتھ سمجھوتوں کا معاملہ کیجیے، اس کی سنیں، اس کو وقت دیں، محبت سے طریقے سے، سلیقے سے اس کو پروان چڑھائیں. جب اس کا قد آپکے قد کے برابر ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ آج آپ مکمل ہو گئے.
کامیابی کی بس ایک ہی شرط ہےکہ .......
تب تک دستک دیجیے، جب تک دروازہ نہیں کھلتا.
ایک چھوٹا سا بچہ جو "نفس" کی آغوش میں پڑا سو رہا ہوتا ہے. ہم جیسے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں،نفس اپنی گود میں پڑے ہوئے بچے کو جگا دیتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ دیکھو یہ کون آیا ہے؟
وہ ضدی غصیل بچہ آنکھیں کھولتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور روتے ہوئے نفس سے لپٹ جاتا ہے.
ہم اس نفس سے بچے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، روتے ہیں، فریاد کرتے ہیں اس کے پاؤں پکڑتے ہیں، مگر سب بے سود....... ہمارا اپنا اندر والا حصہ ہمیں ماننے اور جاننے سے انکار کر دیتا ہے، اس مقام پہ اذیت اپنی حد کو چھونے لگتی ہے، رونا چاہتے ہیں لیکن رو نہیں پاتے ہیں، گڑگڑانا چاہتے ہیں لیکن گڑگڑا نہیں پاتے ہیں، ایسے جیسے شریانوں میں موجود لہو، شریانوں سے الجھنے لگ جائے.
سب تدبیریں ناکام رہتی ہیں تو قوت والے لوگ آگے بڑھ کر بچے کو چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر نفس کے ہاتھوں زخمی ہو کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں. سب رستوں کو کھلا چھوڑتے ہوئے، جس میں سے دیگر لوگ بھی آپکی ذات کے محل میں جھانکنے لگتے ہیں.
جبکہ کچھ اچھے لوگ احتیاط کرتے ہیں، دوبارہ حاضری کے لیے اٹھتے ہیں، ایک ایک دروازے کو بند کرتے ہوئے باہر آ جاتے ہیں. اپنے رب سے مدد مانگتے ہیں اس کی نصرت طلب کرتے ہیں اور دوبارہ اپنی ذات کے محل میں جاتے ہیں، بار بار جاتے ہیں، اتنی بار جاتے ہیں کہ وہ بچہ آپ سے مانوس ہونے لگتا ہے اور نفس کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ کی ذات، آپ کا اپنا آپ، آپ کا وجود، آپ کو حاصل ہو جاتا ہے. نفس کو وہیں کہیں بند رہنے دیجیے اور سب تالے لگا دیجیے اور بچے کو اپنے ساتھ باہر لے آئیے.
اس بچے کو نفس سے ہمیشہ دور رکھیے، اس کے ساتھ سمجھوتوں کا معاملہ کیجیے، اس کی سنیں، اس کو وقت دیں، محبت سے طریقے سے، سلیقے سے اس کو پروان چڑھائیں. جب اس کا قد آپکے قد کے برابر ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ آج آپ مکمل ہو گئے.
کامیابی کی بس ایک ہی شرط ہےکہ .......
تب تک دستک دیجیے، جب تک دروازہ نہیں کھلتا.
تحریر
ملک انس اعوان
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔