آج سے کئی ماہ پہلے ایک کام سے پشاور جانا پڑا۔حیات آباد سے واپسی کے لیے ٹیکسی کے انتظار میں سڑک کے کنارے کھڑا ہو گیا ۔کچھ دیر بعد ایک ٹیکسی پاس آ کر رکی اور ایک ہلکی سی داڑھی والانوجوان گاڑی سے باہر آیا اور مجھ سے پوچھا کہ بھائی آپ کہاں جائیں گے۔میں نے پشاور اڈے کا بتایا اور خلاف معمول پیسے طے کیے بغیر بیٹھ گیا۔دوران سفر مجھے اٹک جمعیت کے ناظم مقام برادر وقاص چغتائی کا فون آیا ۔فون سننے کے بعد جیسے ہی موبائل جیب میں رکھا وہ ٹیکسی چلانے والا نوجوان بولا کہ "ناظم صاحب کیا حال ہے؟" میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آپ مجھے کیسے جانتے ہیں۔تو وہ بولا کہ جس طریقے سے آپ بات کر رہے تھے اور جو ٹیپیکل الفاظ استعمال کر رہے تھے وہ صرف جمعیت والے ہی استعمال کرتے ہیں۔اس بھائی نے مزید بتایا کہ میں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کا کارکن ہوں اور حیات آباد کالج میں ایف ،ایس، سی (میڈیکل) کا طالب علم ہوں۔پھر کیا تھا
سارے رستے خوب گفگو رہی ۔اس بھائی نے مزید بتایا کہ میں خیبر ایجنسی کا رہنے والا ہوں اور اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکسی چلاتا ہوں۔منزل پر پہنچنے کے بعد اس بھائی نے پیسسے لینے سے انکار کر دیا لیکن میں نے زبر دستی پیسے پکڑائے اور واپسی کے لیے بس میں سوار ہو گیا۔لیکن سارے رستے میں سوچتا رہا کہ جمعیت کیسا الفت و مھبت کا رشتہ ہے کہ جس میں رنگ ،نسل ،زبان ، لباس کا کوئی فرق نہیں ۔
کہاں وہ خیبر ایجنسی کا رہنے والا ایک طالب علم اور کہاں وسطی پنجاب کا رہنے والا ایک معمولی سا طالب علم ۔نہ کوئی رشتہ داری نہ کوئی لسانی اور نسلی تعلق لیکن پھر بھی حقیقی بھائیوں کی سی محبت اور پیار۔ آج میں فخر سے کہتا ہوں کہ میری شناخت صرف اسلامی جمعیت طلبہ کی وجہ سے ہے۔آج اگر میری کچھ پہچان ہے تو وہ انس اعوان کی حیثیت سے نہیں بلکہ "اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان" کے ایک عدنی' سے کارکن کی حیثیت سے ہے۔
خوب بنے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو
![]() |
کہاں وہ خیبر ایجنسی کا رہنے والا ایک طالب علم اور کہاں وسطی پنجاب کا رہنے والا ایک معمولی سا طالب علم ۔نہ کوئی رشتہ داری نہ کوئی لسانی اور نسلی تعلق لیکن پھر بھی حقیقی بھائیوں کی سی محبت اور پیار۔ آج میں فخر سے کہتا ہوں کہ میری شناخت صرف اسلامی جمعیت طلبہ کی وجہ سے ہے۔آج اگر میری کچھ پہچان ہے تو وہ انس اعوان کی حیثیت سے نہیں بلکہ "اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان" کے ایک عدنی' سے کارکن کی حیثیت سے ہے۔
انس اعوان











جمیعت نے زندگی سنوار دی
جوانیوں کو دین کی مہار دی