ہم کتنے قدامت پسند ہیں اور ساتھ ساتھ کتنے سادہ بھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی یہ ناممکن ہے لیکن اس دور میں بھی خالص رشتوں اور تعلق کی بات کرتے ہیں۔صرف بات ہی نہیں بلکے تلاش بھی کرتے ہیں۔اور کئی تجربات بھی کر گزرتے ہیں۔
لیکن ہر بار جب منہ کے بل گرتے ہیں تودوبارہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر ایک اور تجربے کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کسی بھی کام کو اگر تسلسل کے ساتھ ایک عرصے تک کیا جائے تو اس کے فوائد و نقصانات کھل کر سامنھے آجاتے ہیں۔لیکن اس معاملے میں حساب کچھ یوں ہے کہ ہر بار ایک نیا رخ ہمارے سامنے آ جاتا ہے اور ہر بار ایک نئی ہی صورت حال پیش آجاتی ہے۔
ہم بھی اس صورت حال سے تنگ ہیں لیکن پھر بھی ایک نیا تجربہ کرنے چل پڑتے ہیں کہ کچھ نہ صحیح کسی کا ایک اور انداز یا چہرہ تو دیکھنے کو ملے گا۔انسان کی فطرت ہے کہ اگر وہ اپنی تکلیف کو بھی لذت محسوس کرنا شروع کر دے تو یہ اُس کے لیے لذت ہی ہوتی ہے کچھ پل کے لیے باقی تمام اثرات اُس کی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔اور گرم چوٹ کا درد تو ویسے بھی محسوس نہیں ہوتا۔پتہ تب لگتا ہے جب زخم کو کچھ عرصہ گزر جائے اور کچھ فرصت حاصل ہو۔پھر درد کا احساس بھی ہوتا ہے اور اپنی غلطی کا بھی۔لیکن وہ کیا ہے کہ انسان ہے ناں،عادت سے مجبور
چلو ایک بار اور صحیح











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔