اندر کا بُت

0 comments
ہماری سب سے بڑی دشمن ہماری خود ساختہ حدود ہیں۔یہ خود ساختہ حدود ہی ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتیں۔ہمارے سامنے اکثر ایسے حالات آتے ہیں کہ جب ہمیں اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کرنا ہوتا ہے لیکن اُسی وقت یہ حدود ہمیں ایسا کرنے سے روک دیتی ہیں۔تاریخ نے صلاحیتوں اور قابلیت کو تبھی مانا ہے جب تک کہ اِس کو دنیا کے سامنے نہ لایا جائے اور منوایا نہ جائے۔وگرنہ یہ صلاحتیں بے فائدہ ہیں۔تو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے اندر موجود اس" ڈر " نامی بُت کو توڑیں اور دنیا کو دکھائیں کہ جناب" یہ ہیں ہم"،لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ بہادری اور بے وقوفی میں بلکل معمولی سا فرق ہوتا۔اور اس فرق کو قائم رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔جب اند کا بُت ٹوٹ جائے تو باہر کے بت خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں۔اور جب باہر کے بت ٹوٹ جائیں تو منزل قریب تر ہو جاتی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔