مشرق وسطی کی صورت حال

0 comments



 اگر کچھ دیر کے لیے ہم یہ بھول جائیں کہ کون صحیح ہے یا کون غلط،کس کے پیچھے کون ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں تو زرا اس وقت مشرق وسطی پر نظر ڈالیں جوعجیب صورت حال سے دوچار ہے۔جو  وہاں کے لوگوں سے زیادہ ہمارے لیے  اہم ہے۔شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کی حکومت کے قیام  سے کچھ  عرصے بعد تک وہاں حالات معمول کے مطابق ہیں۔بقول  موجودہ حکومت وہاں شریعت  کا نظام نافذ العمل ہے۔مقامی لوگ سکون سے ہیں ۔پورے ملک میں  عام عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت موجود ہے۔کم سے کم وقت میں عدالتیں مقدمات کے فیصلے سنا رہی ہیں۔لیکن یہاں ایک چیز باعث تشویش ہے کہ دولت اسلامیہ کے پاس اتنا سرمایا کہاں سے آیا۔لیکن دوسری طرف امریکہ،فرانس ،برطانیہ اور ایران کو عام عوام کا سکون راس  نہیں آرہا اور یکے بعد دیگرے حملے کیے جا رہے ہیں اور سوچ بچار جاری ہے کہ کس طرح انکو روکا جائے۔یاد رکھیے کہ دولت اسلامیہ کی موجودہ  لیڈر شپ اُنہی لوگوں پر مشتمل ہے جنھوں نے شام میں ایرانی فوج اور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے جنگ لڑی۔دراصل یہ اُسی ظلم کا نتیجہ ہے جو بشار الاسد کی حکومت شام کی 80٪ عوام کے ساتھ ایک عرصے سے ڈھاتے رہےہیں۔موجودہ  اعلان شدہ  خلیفہ  پی-ایچ-ڈی سکالر ہیں۔عوام کا اعتماد موجودہ حکومت پر بڑھتا جا رہا ہے جو مستقبل میں واضح طور پر امریکی اور صہیونی مفاد کا قتل عام ہے۔بیشک اللہ بہتر جانتا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔