میرے وجود کی کوئی دلیل تو ہوگی
یا لحاظ رکھو گے آدمیت کا؟
میں دفعتہً مان لوں ہونا بھی
دے دو اگر ثبوت آدمیت کا
حقیقتً جس پر کھڑے ہیں ہم
خدا قسم نہیں مقام آدمیت کا
کس طرح سے لکھوں غم ہستی کے اسباق
اک یہ قلم ہے محتاج آدمیت کا
فریبِ نظر ہے گمان بھی اچھے کا
کیا کروں یہ بھی ہے گمان آدمیت کا
اک توہے جو ہے خود سے بھی ہے غافل
منہ پہ دے مارا فلسفے نے میعار آدمیت کا
یا لحاظ رکھو گے آدمیت کا؟
میں دفعتہً مان لوں ہونا بھی
دے دو اگر ثبوت آدمیت کا
حقیقتً جس پر کھڑے ہیں ہم
خدا قسم نہیں مقام آدمیت کا
کس طرح سے لکھوں غم ہستی کے اسباق
اک یہ قلم ہے محتاج آدمیت کا
فریبِ نظر ہے گمان بھی اچھے کا
کیا کروں یہ بھی ہے گمان آدمیت کا
اک توہے جو ہے خود سے بھی ہے غافل
منہ پہ دے مارا فلسفے نے میعار آدمیت کا
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔