احساسِ ذمہ داری

0 comments
وہی انسان ہوتا ہے۔وہی دو آنکھیں ہوتی ہیں۔ وہی مقام ہوتا ہے لیکن آپکے دماغ میں موجود عکس بدل جاتا ہے۔یہ تب ہوتا ہے جب ہم اپنے سامنے موجود باریکیوں پر غور کرنے لگتے ہیں اور ان میں موجود احساس کو سمجھنے لگتے ہیں۔اکثر اوقات ہم اپنی خواہشات اور منزلوں کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ اپنے ارد گرد خلا میں موجود و  معلق بہت سی باریکیوں سے لا تعلق اور بے نیاز ہو جاتے ہیں۔لیکن جونہی آگے بڑھنے لگتے ہیں ان میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
اس کی مثال ایک وہ باریک سی جالی ہے جس کے پار کا منظر تو آپ کو دور دیکھنے پر صاف نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن اس کا وجود اپنی جگہ قائم و دائم رہتا ہے۔
ان باریکیوں کے پار سے آپ کو اپنی منزل بھی  نظر آ رہا ہوتا ہے  اور اُسی جانب سے ہوا کے جھونکے بھی آ رہے ہوتے ہیں جو آپکو یقین کی پختگی بخشتے  ہیں۔لیکن وہ چیز جو ہم اس دوران کھو رہے ہوتے ہیں وہ ہیں ہم سے منسلک افراداور اُن افراد کے ساتھ یا اُنکی آپکے ساتھ منسلک امیدیں اور تمنائیں  ہیں۔یہ وہ باریکیاں ہیں جو بظاہر تو بہت معمولی اور بے ضرر لگ رہی ہوتی ہیں لیکن اپنے اندر بے پناہ قوت لیے ہوتی ہیں۔وقتی طور پر یہ رشتے ہمیں اپنی منزل کی جانب ایک رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں لیکن جیسے  ہی ہم ان کو سمجھنے اور پرکھنے لگتے ہیں یہ خودبخود اپنی گرہیں  کھولتے  جاتے ہیں ۔
یہ رشتے آخر ہیں کیا؟
یہ تو بس وہ پودے ہیں جو دلوں میں لگائے جاتے ہیں اگر پر خلوص دلوں میں لگائیں جائیں تو سنگین سے سنگین موسم میں بھی اپنی آ ب و تاب برقرار رکھتے ہیں۔ان پر لگنے والے پھل کو "احساس" کہا جاتا ہے۔مزہ تو تب ہے جب اس احساس کو دل سے مت توڑا جائے بلکے خود گرنے دیا جائے ۔جب یہ خود پک کر گرتا ہے تو جلد ہی پودے کا غذائی جزو بن جاتا ہے اور اگلے موسم میں پہلے سے بھی زیادہ میٹھے پھل کا باعث بنتا ہے۔ 
آپ   اپنا جائزہ لیجئے۔۔
آپ کمپیوٹر کسی ایسی  گیم کا حصہ نہیں جس میں صرف آپ ہی ایک پلئیر ہیں اور باقی سب Auto Controlled ہیں۔اگر اللہ کو ایسا مقصود ہوتا تو وہ آپکو  کسی ماں کا بیٹا یا کسی بیٹے کا باپ نہ بناتا ۔اگر بنایا گیا ہے تو اس میں ضرور کوئی نہ کوئی حکمت موجود ہے۔ناجانے ہم روز مرہ کی زندگی میں کتنے دلوں کو صرف اس لیے  تکلیف پہنچاتے ہیں کہ وہ  ہمیں اپنی خواہشات کے رستے میں ایک رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں۔
یاد رکھیے یہ دنیا تو دینے ،بخش دینےاورلُٹا دینے  والوں کی ہے۔دوسری کی خوہشات کا ا حترام  کرنے والوں کی ہے۔
یہی تو وہ عشق ہے جسے میں نفس کے  متضاد سے تعبیر کرتا ہوں۔ اللہ کو راضی کرنے کا سب سے آسان اور ممکن Formula  اللہ کی مخلوق کو راضی کرنے میں پوشیدہ ہے۔تو زات کے خول کو توڑیے اور اس سے باہر موجود دنیا کو دیکھیے اور یہاں اس دنیا میں اپنی صحیح موجودگی کا ثبوت دیجیے وگرنہ اس زمین کے سینے میں بہت سے لوگ دفن ہیں جن کا نام ،تہذیب یہاں تک کہ قوم بھی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے۔
اللہ ہمیں اپنی اہمیت اور ذمہ داریوں کو سمجھنے اور با حسن و خوبی  ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین


تحریر
ملک انس اعوان حزبیؔ
malikanasawan11@gmail.com



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔