کہا جا تا ہے کہ کسی زمانے میں ایک بزرگ نے خدا کو پانے کے لیے دنیا ترک کی اور دور ایک جنگل میں ایک غار کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ بزرگ نے ذکر اذکار شروع کر دیے۔ ایک دن گزرا پھر دوسرابھوک کے مارے بزرگ کی حالت غیر ہونے لگی جس کے باعث عبادت میں بھی خلل آنے لگا،چناچہ اُٹھے اور غار سے باہر آ گئے۔زرا سا آگے گئے تو دیکھا کہ ایک معذور لومڑی پتھر پہ سر دھرے کراہ رہی ہے۔کچھ ہی دور ایک شیر بیٹھا اپنے تازہ شکار کو کھا رہا ہے۔جب شیر کا پیٹ بھر گیا تو وہ وہاں سے چلتے ہوئے گھنے جنگل میں گم ُہو گیا۔لومڑی اُٹھی اور شیر کے بچائے ہوئے شکار کو کھانے لگی۔یہ دیکھ کر بزرگ نے سوچا کہ دیکھو اللہ نے اس معذور لومڑی کے لیے رزق کا بندوبست کر دیا ہے تو وہ میرے لیے بھی رزق کا انتظام کرے گا لیکن جیسے ہی وہ بزرگ واپس جانے کے لیے مُڑے غیب سے آواز آئی کہ ‘’ائے آدمی شیر بن لومڑی نہ بن’’۔
آجکل اگرہم انفرادی سوچ کی بات کریں یا اجتماعی شعور کی ہمارا طرز عمل دونوں صورتوں میں لومڑی جیسا ہے اور ہم میں سے زیادہ اکثریت اُن افراد کی ہے جو اپنے گردو پیش سےلا تعلق ہو کر غار میں جا بیٹھے ہیں اور ذکر اذکار میں مشغول ہیں ۔
جن کی کُل دنیا صرف اور صرف اِن کی ذات ہی ہے۔میرے حلقہ احباب میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو علامہ اقبالؒ کے کلام کو پڑھنے کے بعد بھی اُنکے پیغام ِ آفاقیت کو سمجھنے بلکے ہضم کرنے سے قاصر ہے۔
مجھے شدید افسوس ہوتا ہے جب ایسے لوگ ملکی صورت حال پر انتہائی مایوس کُن تبصرے کرتے ہیں۔یاد رکھیے کہ دریا کے کنارے کھڑے ہو کر ہم صرف دریا کی گہرائی کے حوالے سے اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔اور وہ بھی ایسا اندازہ جس کی حقیقت کو ماپنے کے لیے ہمارے پاس کوئی پیمانہ ہی موجود نہیں ہے۔
نا جانے یہ تصوف کی کونسی قسم ہے جو انہیں گمان اور خیالات کی حد تک قید کیے رکھتی ہے حلانکہ رب کو راضی کرنے کا سب سے آسان فارمولا رب کی مخلوق کوسہولت اور آسائش فراہم کرنے میں پو شیدہ ہے۔کیچڑ کو صاف کرنے میں آپکے اپنے کپڑے گندے ہونے کا امکان صد فیصد موجود رہتا ہے۔اگر آپ اپنے کپڑوں کو بچانے میں لگے رہے تو اس کے باعث لازمً آنے والے لوگ متاثر ہوتے رہیں گے۔
ہمارے معا شرے میں ایک اورخاص قسم کی ذہنیت پائی جاتی ہے جس کے بقول انسانیت اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اب کوئی فرشتہ ہی آ کر اِنکو بچائے گا تو یاد رکھیے کہ اب کوئی فرشتہ نہیں آنے والا۔یہ حالات ہمارے ہی بگاڑے ہوئے ہیں اور ہم نے ہی انکو سنوارنا ہے۔
ہماری مثال شاہینوں کے ایسے بچوں کی سی ہے جن کو ہمارے موجودہ تعلیمی نظا م کی مرغی کے زیر سایہ پالا گیا ہے۔ہمارے بازؤں میں ہمارے بڑوں کی سی طاقت تو موجود ہے لیکں ذہنی طور پر ہمیں حالات و واقعات کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ہمارے ذہن سے تند و تیز ہواؤں سے بغاوت کرنے کا حوصلہ اور طاقت چھین لی گئی ہے۔
تاج برطانیہ کی ہمیشہ سے ہی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ جس قوم کو بھی غلام بناتی ہے سب سے پہلے اُسے ذہنی غلامی کا شکار بناتی ہے۔اس طرح وہ زمینی تسلط کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی ایک عرصے تک اپنے غلاموں سے فائدہ اُٹھاتے رہتے ہیں۔
غلام ہونا اتنی بری بات نہیں جتنا غلامی کو تسلیم کر لینا ہے۔غلامی کبھی بھی باقائدہ کسی تقریب کے بعد قبول نہیں کی جاتی۔جب کوئی قوم اپنی تہذیب و تمدن اور زبان وکلام کو نیچ اور ناقابل عزت سمجھنے لگے تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ وہ غلامی کا شکار ہو چکی ہے۔یک نہ شُد دو شُد ۔۔۔ہماری نوجوان نسل کو جو تاریخ پرھائی جاتی ہے وہ بر صغیر پر مغلیہ سلطنت کے زوال سے شروع ہو کر مشرف کے دور اقتدار پر ختم ہو جاتی ہے۔
اب اس کے بعد ہم اپنی نو جوان نسل سے کس قسم کی امُید رکھ سکتے ہیں؟
ہماری موجودہ نسل جس سے میں تعلق رکھتا ہوں شاید ہی خلافت عثمانیہ کی اُس معجزاتی سلطنت کا تصور کر سکیں جس میں عربی،فارسی،افریقی اور یورپی زبانیں بولنے والے ایک ہی اُمت شمار کیے جاتے تھے۔ انہیں کیا معلوم کہ انکے آباء و اجداد کون تھے؟ کیا تھے؟ اور کیسے تھے؟۔
کہاں گئی یقین کی وہ کیفیت جو 313 کے لشکر کو1000 کفار کے مقابل لا کھڑاکرتی ہے۔یاد رکھیے ایمان بذات خود ایک قوت ہے۔جو نہ کسی بڑے کو دیکھتی ہے نہ چھوٹے کو نہ کسی مضبوط کو اور نہ کسی کمزور کو۔
اور اگر یہ ذہن میں سرایت کر جائے تو اس کے نتیجے میں امام عالی مقام سیدنا حسین(ر،ض) کا کردار پیدا ہوتا ہے۔باطل کے مقابلے میں پیاس،بھوک اور نیزے کی نوک بھول جاتی ہے۔گرم ریت بھی پھولوں کی سیج معلوم ہوتی ہے۔
اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ ہے صرف یقین کی اس یقین کی جو ہمیں ان حالات میں بھی امید کی طرف لے کر جائے۔اور مومن تو کبھی نا امید نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا رب قادرہے۔
اگر قومیں یا افراد اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے راستے سے بھٹک جائیں تو کوئی بات نہیں مسلسل چلتے رہنے سے ایک دن وہ منزل پر پہنچ ہی جاتے ہین لیکن پریشانی کی بات تب ہوتی ہے جب قو میں اپنی منزل ہی کھو دیتیں ہیں۔پھر دنیا کی دوسری قومیں اُن پر مسلط کر دی جاتیں ہیں۔لیکن یاد رکھیےکہ
شاہینوں کے بچے اگر مرغی کے نیچے بھی پرورش پائیں تو وہ شاہین ہی کہلائیں گے۔کسی نہ کسی روز تیز ہوا اُنہیں بلندیوں کی جانب دھکیل ہی دے گی اور وہ وقت اب دور نہیں ہے۔
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سُنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
تحریر
ملک انس اعوان
آجکل اگرہم انفرادی سوچ کی بات کریں یا اجتماعی شعور کی ہمارا طرز عمل دونوں صورتوں میں لومڑی جیسا ہے اور ہم میں سے زیادہ اکثریت اُن افراد کی ہے جو اپنے گردو پیش سےلا تعلق ہو کر غار میں جا بیٹھے ہیں اور ذکر اذکار میں مشغول ہیں ۔
جن کی کُل دنیا صرف اور صرف اِن کی ذات ہی ہے۔میرے حلقہ احباب میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو علامہ اقبالؒ کے کلام کو پڑھنے کے بعد بھی اُنکے پیغام ِ آفاقیت کو سمجھنے بلکے ہضم کرنے سے قاصر ہے۔
مجھے شدید افسوس ہوتا ہے جب ایسے لوگ ملکی صورت حال پر انتہائی مایوس کُن تبصرے کرتے ہیں۔یاد رکھیے کہ دریا کے کنارے کھڑے ہو کر ہم صرف دریا کی گہرائی کے حوالے سے اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔اور وہ بھی ایسا اندازہ جس کی حقیقت کو ماپنے کے لیے ہمارے پاس کوئی پیمانہ ہی موجود نہیں ہے۔
نا جانے یہ تصوف کی کونسی قسم ہے جو انہیں گمان اور خیالات کی حد تک قید کیے رکھتی ہے حلانکہ رب کو راضی کرنے کا سب سے آسان فارمولا رب کی مخلوق کوسہولت اور آسائش فراہم کرنے میں پو شیدہ ہے۔کیچڑ کو صاف کرنے میں آپکے اپنے کپڑے گندے ہونے کا امکان صد فیصد موجود رہتا ہے۔اگر آپ اپنے کپڑوں کو بچانے میں لگے رہے تو اس کے باعث لازمً آنے والے لوگ متاثر ہوتے رہیں گے۔
ہمارے معا شرے میں ایک اورخاص قسم کی ذہنیت پائی جاتی ہے جس کے بقول انسانیت اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اب کوئی فرشتہ ہی آ کر اِنکو بچائے گا تو یاد رکھیے کہ اب کوئی فرشتہ نہیں آنے والا۔یہ حالات ہمارے ہی بگاڑے ہوئے ہیں اور ہم نے ہی انکو سنوارنا ہے۔
ہماری مثال شاہینوں کے ایسے بچوں کی سی ہے جن کو ہمارے موجودہ تعلیمی نظا م کی مرغی کے زیر سایہ پالا گیا ہے۔ہمارے بازؤں میں ہمارے بڑوں کی سی طاقت تو موجود ہے لیکں ذہنی طور پر ہمیں حالات و واقعات کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ہمارے ذہن سے تند و تیز ہواؤں سے بغاوت کرنے کا حوصلہ اور طاقت چھین لی گئی ہے۔
تاج برطانیہ کی ہمیشہ سے ہی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ جس قوم کو بھی غلام بناتی ہے سب سے پہلے اُسے ذہنی غلامی کا شکار بناتی ہے۔اس طرح وہ زمینی تسلط کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی ایک عرصے تک اپنے غلاموں سے فائدہ اُٹھاتے رہتے ہیں۔
غلام ہونا اتنی بری بات نہیں جتنا غلامی کو تسلیم کر لینا ہے۔غلامی کبھی بھی باقائدہ کسی تقریب کے بعد قبول نہیں کی جاتی۔جب کوئی قوم اپنی تہذیب و تمدن اور زبان وکلام کو نیچ اور ناقابل عزت سمجھنے لگے تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ وہ غلامی کا شکار ہو چکی ہے۔یک نہ شُد دو شُد ۔۔۔ہماری نوجوان نسل کو جو تاریخ پرھائی جاتی ہے وہ بر صغیر پر مغلیہ سلطنت کے زوال سے شروع ہو کر مشرف کے دور اقتدار پر ختم ہو جاتی ہے۔
اب اس کے بعد ہم اپنی نو جوان نسل سے کس قسم کی امُید رکھ سکتے ہیں؟
ہماری موجودہ نسل جس سے میں تعلق رکھتا ہوں شاید ہی خلافت عثمانیہ کی اُس معجزاتی سلطنت کا تصور کر سکیں جس میں عربی،فارسی،افریقی اور یورپی زبانیں بولنے والے ایک ہی اُمت شمار کیے جاتے تھے۔ انہیں کیا معلوم کہ انکے آباء و اجداد کون تھے؟ کیا تھے؟ اور کیسے تھے؟۔
کہاں گئی یقین کی وہ کیفیت جو 313 کے لشکر کو1000 کفار کے مقابل لا کھڑاکرتی ہے۔یاد رکھیے ایمان بذات خود ایک قوت ہے۔جو نہ کسی بڑے کو دیکھتی ہے نہ چھوٹے کو نہ کسی مضبوط کو اور نہ کسی کمزور کو۔
اور اگر یہ ذہن میں سرایت کر جائے تو اس کے نتیجے میں امام عالی مقام سیدنا حسین(ر،ض) کا کردار پیدا ہوتا ہے۔باطل کے مقابلے میں پیاس،بھوک اور نیزے کی نوک بھول جاتی ہے۔گرم ریت بھی پھولوں کی سیج معلوم ہوتی ہے۔
اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ ہے صرف یقین کی اس یقین کی جو ہمیں ان حالات میں بھی امید کی طرف لے کر جائے۔اور مومن تو کبھی نا امید نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا رب قادرہے۔
اگر قومیں یا افراد اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے راستے سے بھٹک جائیں تو کوئی بات نہیں مسلسل چلتے رہنے سے ایک دن وہ منزل پر پہنچ ہی جاتے ہین لیکن پریشانی کی بات تب ہوتی ہے جب قو میں اپنی منزل ہی کھو دیتیں ہیں۔پھر دنیا کی دوسری قومیں اُن پر مسلط کر دی جاتیں ہیں۔لیکن یاد رکھیےکہ
شاہینوں کے بچے اگر مرغی کے نیچے بھی پرورش پائیں تو وہ شاہین ہی کہلائیں گے۔کسی نہ کسی روز تیز ہوا اُنہیں بلندیوں کی جانب دھکیل ہی دے گی اور وہ وقت اب دور نہیں ہے۔
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سُنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
تحریر
ملک انس اعوان
روزنامچہ














0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔