خوابوں کے شاہ سوار(مزاحیہ تحریر)

0 comments
مجھے کسی پر تبصرہ کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں یہ تو ایک الگ بحث ہے لیکن جب کوئی بات دل سے زباں تک آ ہی جائے تو میرے لیے   اِسے قلمبند  کرنا لازمی ٹھہر جاتا ہے۔میرا مشاہدہ ہے کے وہ لوگ  جنھیں عام لوگ کتابی دنیا  یا تخیُّلاتی دنیا کے رہائشی گردانتے ہیں بلاشبہ عام لوگوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔
بحیثیت انسان ہم چاہے  ناول،ڈائجسٹ،رسالہ یا کوئی مضمون پڑھ رہے ہوں تو الفاظ کے گھوڑے پر سوار ہو  کر خیال کی زمین پر بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔وہاں تک جہاں چہارسو سبزہ ہی سبزہ  ہواور  خیر و سلامتی کا بول بالا ہو۔جب ایسے منظر  آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا  رہے ہوں تو  کس کا دل کرتا ہے تو  دوبارہ اُس کڑوی کسیلی  حقیقتوں کا سامنا کرے جس میں نہ تو ریڈر محترم کسی سلطنت کے شاہزادےہوتے ہیں اور نہ ہی کسی ملک کی حسین و جمیل شاہ زادی اُن کے عشق میں مبتلاء ہوتی ہے۔
جناب اچھے بھلے جذباتی موڈ میں ہوتے ہیں لیکن والدہ کی آواز  اس سارے منظر کو چشم زدن میں ملیا میٹ کر دیتی ہے اور چند لمحے پہلے کے بادشاہ سلامت ہاتھ میں 20 روپے پکڑے گلی کے کونے پر موجود کریانے کی دوکان  پر  سرف کا پیکٹ خرید رہے ہوتے ہیں۔
واپسی پر جناب یہی سوچ رہے ہوتے ہیں بس اگلی بار والدہ کے اُٹھانے سے پہلے دنیا فتح کر کےسکندر اعظم کا ریکارڈ توڑ ڈالنا ہے۔۔۔۔
انشاء اللہ۔۔۔۔۔۔۔!

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔