ہمارے معاشرے میں طبقاتی تقسیم تو پہلے سے
ہی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔جس کی ایک مثال
نائی کی دوکان یا بیوٹی سیلون ہے۔
اس حوالے سے میرے ایک دوست بہت دلچسپ واقعہ
سناتے ہیں کہ ایک روز وہ اپنے رہائشی علاقے کی سب سے مہنگی نائی کی دوکان۔۔۔او ہو
سوری بیوٹی سیلون میں گئے اور اپنی بالوں کی تراش خراش کروانے لگے۔میرے دوست میری
طرح نہایت سادہ اور گھریلو قسم کے تھے،چناچہ
اچھے بچے کی طرح کرسی پر بیٹھ گئے
اور سارا اختیار اُن صاحب کو دے دیا جو
اس So Called بیوٹی سیلون کے Worker تھے۔اسی دوران ان صاحب کو گھر سے فون
آ گیا ۔موبائل کان سے لگایا اور بولےکہ بعد میں کال کیجیے میں ابھی نائی کی دوکان
میں ہوں۔
ان الفاظ کا منہ سے نکلنا تھا کہ اُس Beauty Specialist نے قینچی نیچے رکھتے ہوئے احتجاجی
انداز میں میرے دوست کو کہا کہ جناب میں
نائی نہیں ہوں، نہیں ہوں بلکل بھی نہیں ہوں۔
حالات کی نذاکت کو سمجھتے ہوئے ہمارے دوست
نے اپنی غلطی کا عتراف کیا اور معافی بھی مانگی۔اس کے بعد جیسے ہی وہ دوکان (بیوٹی
سیلون) سے باہر آئے فوراً روایتی پنجابی
انداز میں 200 کے لگ بھگ گالیاں جھڑ دیں۔ میں آج بھی جب کسی Beauty Salonجاتا ہوں تو یہ واقعہ یاد آ جاتا ہے
اور بے ساختہ مسکرانے لگتا ہوں۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔