دنیا کےمہذب معاشروں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ
جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو مل جل کر اتفاق و اتحاد سے مشاورت کے بعد
مسئلے کے پائیدار حل کے لیے اُس کو جڑ سے
پکڑ کر اکھاڑا جاتا ہے۔جب بھی کوئی گروہ یا افراد ریاست کے یا ریاست کے کسی ادارے کے خلاف مسلح جدوجہد شروع
کر دیں تو اس کے پیچھے ایک لمبے عرصے تک کا طرز عمل اور رویہ کار فرما ہوتا ہے۔کئی
بار بہت سے چھوٹے چھوٹے محرکات مل ایک بڑی تحریک کا باعث بن جاتے ہیں۔ہمارے ہاں
پاکستانی عوام صرف اُن افرادکو سمجھا جاتا ہے جو لاہور،کراچی،اسلام
آباد،پشاور،کوئٹہ اور بڑے شہروں میں رہائش پزیر ہیں۔کیونکہ یہاں ہونے والے چھوٹے
سے چھوٹے واقعے کو بھی چند لمحات میں لائیو کوریج کی سہولت دستیاب ہوتی ہے اور
حکام بالا کی طرف سےازخود نوٹس کا امکان
بھی موجود رہتا ہے۔معاملہ زرا سنگیں نوعیت کا ہو تو افسران کو ڈس مس بھی کر دیا
جاتا ہے۔لیکن یہاں سے کچھ دور قبائلی علاقہ جات بھی موجود ہیں۔جہاں انسانی بنیادی
ضروریات کا تصور سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔ٹھوس تعلیمی نظام بھی موجودنہیں ہے۔اگر
اس کے لیے ‘’تھرڈ ،ورلڈ’’ کی اصطلاح استعمال کی جائے تو بے جا نہ ہو گی۔اس تیسری
دنیا کے حالات کا ایک عام شہری ہر گز
اندازہ نہیں کر سکتا۔
اگر ہمارے ہاں کسی بڑے شہر میں کوئی مجرم
چھپ جائے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں سرچ آپریشن کے ذریعے اُس کو
گرفتار یا قتل کر دیتے ہیں لیکن اِن قبائلی علاقہ جات میں صرف شبہے کی ہی بنیاد پر
پورے گاؤں کو خاک و خون میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔اگر ہم ان لوگوں کو انسان نہیں
سمجھیں گے تو رد عمل میں ہم کو بھی انسان نہیں سمجھا جائے گا۔
اور حیرت ہوتی ہے جب ائے سی کمرے میں موجود
نام نہاد دانشور قبائلی عوام کو دہشتگرد کا خطاب دیتے ہوئے پھولے نہیں سماتے۔ظلم
وہ واحد چیز ہے جو عام عوام کو بندوق تک اُٹھا لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ایک اچھے روز گار اور بہتر مستقبل والا
انسان کیونکر اپنی جان خطرے میں ڈالے گا؟
ہم خود ہی تو دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں۔۔۔۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔